سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 209
یا کوئی اپنے کسی بھائی کی دل شکنی کا موجب بنتا۔یا ذاتیات میں اُلجھ کر اصل مقصد کو پھیلا دیتیا اسی طرح اگر کسی کی باتوں سے بچتے احمدی کی بجائے ریا اور منافقت کی بو آتی تو ایسے تمام مواقع پر آپ علی العموم سخت ناپسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار فرماتے۔ہاں اگر محض برادرانہ محبت کے اندازہ میں کوئی کسی مقرر کی بات کی طرف لطیف مزاحیہ رنگ میں اشارہ کرتا تو اُسے آپ ہرگز نا پسند نہ کرتے بلکہ بعض دفعہ اس مومنانہ اخوت کی نوک جھونک میں خود بھی شامل ہو جاتے۔اور جس شخص کو نشانہ بنایا گیا ہوتا۔اس کی طرف سے ایسا پر لطف جواب دیتے کہ حاضرین آپ کی حاضر جوابی پر عش عش کر اُٹھتے۔اور محفل کشت زعفران بن جاتی۔سلسلہ کے پرانے کارکنوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے خدام کی آپ کے دل میں بڑی عزت اور قدر تھی۔چنانچہ مشاورت کے موقعہ پر بھی ان کے ساتھ احترام اور اعزاز کا غیر معمولی سلوک فرماتے ان کی باتوں کو بڑی توجہ اور انہماک کے ساتھ سنتے ان کی غلطیوں سے درگزر فرماتے اور وقت کی بھی کوئی خاص قید عائد نہ کرتے۔پنجاب کی اکثریت چونکہ زمیندار دیہاتی جماعتوں پر مشتمل تھی اور مجلس شوری میں بھی عموٹا پنجاب ہی کے نمائندگان کی کثرت ہوا کرتی تھی اس لئے جہاں ایک طرف آپ دیہاتی نمائندوں کی رائے سننے کا خصوصیت سے اہتمام فرمایا کرتے۔وہاں اس طرف بھی خاص توجہ دیتے کہ دور سے آنے والے نمائندگان خواہ تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں ان کو ضرور اظہار رائے کا موقعہ ملے۔چنانچہ صوبہ سرحد سندھ۔بنگال - مدراس بمبئی اور یوپی کے نمائندگان کے نام آپ عموما خود کہہ کر اہم سب کمیٹیوں میں رکھواتے اور اگر وہ مجلس میں اظہار رائے کے لئے اپنا نام نہ بھی پیش کرتے تو بھی خود ارشاد فرما کر اظہار رائے کے لئے انہیں تاکید فرماتے۔یہ مجلس ہر قسم کے مشیروں پرمشتمل ہوتی۔کہیں علوم سے آراستہ بڑے بڑے ماہر تعلیم اور حکومت کے اعلیٰ افسران ، کہیں انجینئر، وکلاء اور ڈاکٹر صاحبان اور کہیں پیشہ ور حضرات حتی کہ بڑھتی اور لوہار جو مجلس شوری میں اپنے علم اور استطاعت کے مطابق مشورہ کے لئے حاضر ہو جاتے معمولی دکاندار اور آڑھتی سادہ لوح ان پڑھ زمیندار چوہدری اور غیر جوہری پنجابی سندھی۔بنگالی- مدراسی۔مالا باری اور یوپی کے منجھی ہوئی نہ بان بولنے والے سبھی اس مجلس میں ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر محمود و ایاز کا منظر پیش کر رہے ہوتے۔زبان اور بیان کی مشکلات ان کی راہ میں کبھی حائل نہ ہوتیں۔ایسے احباب جن کو اپنے اظہار خیال میں