سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 179
169 کام مکمل نہیں ہو سکتا۔اس مجلس کی غرض کے متعلق مختصر الفاظ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسی اغراض جن کا جماعت کے قیام اور ترقی سے گہرا تعلق ہے ان کے متعلق جماعت کے لوگوں کو جمع کر کے مشورہ لے لیا جائے، تا کہ کام میں آسانی پیدا ہو جائے یا ان احباب کو ان ضروریات کا پتہ لگے جو جماعت سے لگی ہوئی ہیں تو یہ مجلس شوری ہے۔" رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مشورہ کا طریق بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔اب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفاء کے زمانہ میں مشورہ کا جو طریق تھا وہ بیان کرتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء تین طریقے سے مشورہ لیتے تھے۔را، جب مشورہ کے قابل کوئی معاملہ ہوتا تو ایک شخص اعلان کرتا کہ لوگ جمع ہو جائیں اس پر لوگ جمع ہو جاتے۔عام طور پر یہی طریق رائج تھا کہ عام اعلان ہوتا اور لوگ جمع ہو کر مشورہ کر لیتے اور معاملہ کا فیصلہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا خلیفہ کر دیتے۔(۲) دوسرا طریق مشورہ کا یہ تھا کہ وہ خاص آدمی جن کو رسول کریم صلی للہ علیہ وسلم مستورہ کا اہل سمجھتے ان کو الگ جمع کر لیتے۔باقی لوگ نہیں بلائے جاتے تھے۔جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مشورہ لیتے تھے۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے تیس کے قریب ہوتے تھے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سب کو ایک جگہ بلا کر مشور لے لیتے۔کبھی تین چار کو بلا کر مشورہ لے لیتے۔(۳) تیسرا طریق یہ تھا کہ آپ کسی خاص معاملہ میں جس میں آپ سمجھتے تھے کہ دو آدمی بھی جمع نہ ہونے چاہئیں۔علیحدہ علیحدہ مشورہ لیتے۔پہلے ایک کو بلا لیا۔اس سے گفتگو کر کے اس کو روانہ کردیا اور دوسرے کو بلا لیا۔یہ ایسے وقت میں ہوتا جب خیال ہوتا کہ ممکن ہے رائے کے اختلاف کی وجہ سے دو بھی آپس میں لڑ پڑیں۔ے رپورٹ مجلس مشاورت ۹۲۶ه صدا