سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 104
خوار کیا جائے گا۔خواہ کوئی کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو پھر قبل از وقت ایسی اخبار اسے دی گئیں جو غیب کی ہیں اور ایسی ہیں جن میں اقتداری شرکت پائی جاتی ہے اور جن کے دیکھنے والے اس وقت ہر مذہب کے لوگ موجود ہیں۔خواہ وہ ان کی کچھ ہی تاویل کریں۔لیکن پورا ہونے سے انکار نہیں کر سکتے اور بعض خبریں اب بھی پوری ہو رہی ہیں۔آپ وہ انسان تو سمجھ گئے ہوں گے جس کے متعلق میں نے یہ بائیں بیان کی ہیں وہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب ہیں۔اب میں ایک واقعہ کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں جس میں آپ کی قبولیت دعا کا ثبوت ملتا ہے۔یہاں ایک لڑکا عبد الکریم پڑھا کرتا تھا اس کو ایک ہلکا گتا کاٹ گیا اسے علاج کے لئے کسولی بھیجا گیا لیکن کچھ عرصہ بعد اسے ہلکا ہو ہی گیا۔کسولی سے بذریعہ تار پو چھا گیا تو جواب آیا کہ اب اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔چنانچہ اب تک ایسے مریض کا کوئی علاج نہیں تجویز ہوا لیکن اس کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے دُعا کی اور فرمایا کہ میرا دل نہیں چاہتا کہ یہ لڑکا جو اتنی دور سے علم حاصل کرنے کے لئے آیا ہے اس طرح مرے۔میں اس کی صحت کے لئے دُعا کرتا ہوں آپ کی دعا قبول ہو گئی اور وہ لڑکا اس وقت تک زندہ ہے۔اس واقعہ کو اپنی آنکھوں دیکھنے والے اس مجلس میں بیٹھے ہیں۔سیکھا۔یہ تو ایک کہانی ہے دیگر مذاہب والے بھی اپنے بزرگوں کی اس سے بڑھ چڑھ کر کرامات سنا سکتے ہیں اور میں بھی بہت سی اسی طرح کی باتیں بتا سکتا ہوں۔غالب نے شاید اسی موقع کے لئے کہا تھا کہ ہم تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟" لیکن حضرت صاحب کا حوصلہ اس سے وسیع تر تھا۔آپ نے سزار صاب پر کہانی اور حقیقت کا فرق ظاہر کرتے ہوئے فرمایا :- حضرت :۔یہ کہانی نہیں بلکہ واقعہ ہے جس کے دیکھنے والے یہاں آپ کے سامنے