سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 102
انسانی طاقت سے باہر بھی نہیں کہ سکتے۔آپ کو معلوم ہے کہ پہلے زمانہ میں ہوا میں اُڑنا۔بیجان چیزوں سے آواز کا نکلنا غیر ممکن تھا لیکن اب ہوائی جہازوں اور فونوگرافوں نے یہ ممکن کر دیا ہے۔حضرت۔ہم مانتے ہیں کہ بعض وہ باتیں جو پہلے معلوم نہ تھیں اب معلوم ہوئیں اور ہو رہی ہیں لیکن اس کے متعلق یا درکھنا چاہیئے کہ جس قدر انسانی کام ہو رہے ہیں وہ اسباب کے ذریعہ ہو رہے ہیں۔اور کوئی ایسا کام نہیں جو ان کے بغیر انجام پا رہا ہو اس سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ دنیا پر واقع ہونے والی باتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک وہ جو انسانی طاقت اور قدرت میں ہیں اور دوسری وہ جو اس سے بالاتر ہیں۔اس لئے ہم بعض باتوں کی نسبت تو کہہ سکتے ہیں کہ انسانی طاقت سے بالا تر نہیں اور ممکن ہے کہ ان میں کوئی اور بات نکل آئے لیکن بعض ایسی ہیں جن کی نسبت یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اب ان میں تغییر نہیں ہو سکتا اور ناممکن ہے کہ ان باتوں میں کچھ کمی ہو سکے۔مثلاً ثابت ہو گیا ہے کہ پانی مفرد نہیں بلکہ مرتب ہے۔اب یہ تو ممکن ہے کہ وہ اجزاء جن سے پانی مرکب ہے اور اجزاء میں منقسم ثابت ہو جائیں لیکن یہ ناممکن ہے کہ پانی مفرد ثابت ہو سکے۔تو اس سے ثابت ہوا کہ دنیا کی تمام اشیاء ایسی نہیں جن کی نسبت یہ کیا جا سکے کہ ممکن ہے ان میں تغیر ہو جائے۔پس اگر ایسی باتوں میں جن کے متعلق فتوئی مل چکا ہو کہ تغیر نہیں ہو سکتا۔انسانی طاقتوں سے بالا تر قدرت نمائی کا جلوہ نظر آئے تو مان لینا چاہیئے کہ یہ خدا ہی کا کلام ہے۔خدا تعالے قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جو لوگ میرے احکام پر چلیں گے میں ان میں اپنی قدرت کی جلوہ نمائی کروں گا۔اُن کو آئندہ کے لئے اخبار دوں گا۔ان کی خبریں نجومیوں کی سی نہ ہوں گی بلکہ اپنے اندر ایک شوکت و جلال رکھنے والی ہوں گی میرے ان فرمانبردار