سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 92
۹۲ ہے کہ قبولِ اسلام کے بعد اس نے قادیان ہی میں عمر کہ اسلامی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا اور قادیان کے دینی مدرسہ میں داخل ہو کر ایک لمبے عرصہ تک تعلیم پاتا رہا۔قادیان میں پر وفیسر مارگولیتھ کی آمد سے اور حضرت خلیفہ ایسی الثانی منی للہ عنہ سے یورپ گفت گو " مسٹر والٹر اور مسٹر لیوکس کی قادیان میں آمد کا ذکر گزر چکا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ قادیا روز بروز ایک عالمی پچیسپی کا مرکز بنتا چلا جا رہا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے اس کلام کی صداقت ہر آنے والے سال میں پہلے سے بڑھ کر ظاہر ہوتی جا رہی تھی کہ میں تھا غریب دیکس و گمنام دبے ہر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کو دھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظریہ یقی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی H اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا پس قادیان مرجع عوام بھی ہوا اور مرجع خواص بھی بنا اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی ایک دوسر می پیشگوئی کے پورا ہونے کے بھی آثار ظا ہر ہونے لگے کہ آپ کا موعود بیٹا زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا گو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السّلام کے زمانہ ہی سے قادیان کی حیثیت اس لحاظ سے تو خوب متعارف ہو چکی تھی کہ یہ دورِ حاضر کی ایک مذہبی تحریک کا مرکز ہے جو اسلام کے احیائے نو کی دعویدار ہے۔لیکن جہاں تک حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا تعلق تھا ابھی آپ نے عالمی شہرت نہ پائی تھی۔ایک نو عمر رہنما جو نہ بڑے مذہبی مدارس کا سند یافتہ ہو نہ دنیوی تعلیم کے زیور سے آراستہ ایسے نوجوان رہنما سے ملاقات کا امکان یقینا دلوں کو بڑا حوصلہ بخشتا ہوگا اور بعض جوشیلے ملاقاتیوں کے دل میں تو یقیناً یہ امید چٹکیاں لیتی ہوگی کہ کیس کیس طرح اس نا تجربہ کانہ اور مجھے کو نبھا دکھائیں گے۔مگر واقعہ ایسی ملاقاتوں کا جو نتیجہ نکلتا وہ اس کے برعکس ہوتا جس کا کچھ حال پہلے بیان ہو چکا ہے اور کچھ اب بیان کیا جاتا ہے۔پروفیسر مارگولیتھ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔یہ وہ شہرہ آفاق مستشرق