سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 77

66 اسی سال مستورات کی بہبود کے لئے دوسرا اہم اور مستقل نوعیت کا اقدام آپ نے یہ کیا کہ جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر احمد می خواتین کے لئے الگ نشست کا انتظام فرمایا ہے چنانچہ اس وقت سے لے کر آج تک باقاعدہ مستورات کے لئے الگ جلسہ گاہ تیار کی جاتی ہے اور یہ طریق کار احمدی مستورات کی تربیت کے لئے بہت ہی دُور رس نتائج پیدا کرنے والا ثابت ہوا۔رفتہ رفتہ یہ جلسہ گاہ ایک الگ جلسہ گاہ کی شکل اختیار کر گئی۔چنانچہ بعد ازاں حضرت خلیفہ ایسیح اور بعض دوسرے بزرگان کی اہم تقاریر کے علاوہ جو مردانہ جلسہ گاہ کے ساتھ زنانہ جلسہ گاہ میں بھی سنائی جاتی تھیں مستورات کو اپنا الگ پروگرام مرتب کرنے کا بھی موقع ملنے لگا۔اور احمدی مستورات میں علمی تقاریر کرنے والی خواتین پیدا ہونے لگیں۔سفر شمده ماه ستمبر ۱۹۱۷ ء میں حضور نے بعض مصالح کے پیش نظر شملہ کا سفر اختیار فرمایا۔اس سفر کا مقصد بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :- پچھلے دنوں میں ترجمے کا کام کرتا رہا ہوں جس سے میرے دماغ پر اتنا میں رہا ہوں بوجھ پڑا کہ ایسی حالت ہوگئی جو میں ایک سطر بھی لکھنے سے رہ گیا، اور بخار ہو گیا۔اس لئے اب میرا ارادہ باہر جانے کا ہے۔اصل نشاء تو یہی ہے کہ ذرا سا آرام ہو سکے۔مگر پھر بھی میں اپنے فرائض سے اور اس کام سے جو خدا نے میرے سپرد کیا ہے غافل نہیں ہوں۔بعض رویا، میں نے دیکھی ہیں جن کی بناء پر میں کہ سکتا ہوں کہ کچھ اور مصالح بھی میرے سفر میں ہیں۔الفضل قادیان مستمری اوائ مٹ حضرت صاحب نے یہ سفر اگرچہ خلافت کے ابتدائی ایام میں اختیار کیا مگر اس سفر کی رو نداد کو دیکھکر معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ آپ کے سفروں کا کم و بیشیں ایک ہی اندازہ رہا۔آغاز خلافت کے سفر ہوں یا آخری دور کے سب میں تقریباً بنیادی نقوش ایک سے نظر آتے ہیں۔سفر پر له الفضل ۲۸ دسمبر ۱۹۱۵