سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 66
اس کتاب میں مسئلہ نبوت کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور شرح وبسط کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت ایک خلقی اور تابع نبوت ہے اور کسی پہلو سے بھی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی شان میں کمی کرنے والی نہیں ہے بلکہ آپ کی شان کو دوبالا کرنے کا موجب ہے۔آپ نے خاتم النبیین کی نہایت عمدہ اور لطیف حقیقت بیان فرمائی اور فرمایا کہ آیت خاتم النبیین کے وہ معانی جو غیر مبائعین کی جماعت کرتی ہے نہ صرف یہ کہ عقل اور محاورہ عرب کے مطابق نہیں ہیں بلکہ حضور اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کی کسر شان کا موجب بنتے ہیں۔اس کے برعکس جماعت احمدیہ قادیان کے پیش کردہ معانی سے حضور کی ارفع شان اور بے نظیر مراتب کا اظہار ہوتا ہے۔یہ کتاب جو ٹھوس عقلی اور نقلی دلائل پر مشتمل ہے۔حضور اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کا ذکر آنے پر ایک نیا ہی رنگ اختیار کر لیتی ہے اور آپ کی طرز نگارش عاشقانہ جذبات میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے۔کتاب میں ایسا ربط و ضبط اور تسلسل ہے کہ سیاق وسباق سے الگ کر کے کوئی اقتباس پیشیں کرنا مشکل ہے۔یہ کتاب تمام تر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔اس کتاب کے فوائد اور اثرات کا ذکر کرتے ہوئے الفضل ۱۲۲ فروری ۱۹۱۶ء رقمطراز ہے :- اس وقت تک غیر مبائعین کے ایک کثیر حصہ کے سوا غیر احمدی لوگوں میں سے بہت سے اصحاب نے بھی اس سے فائدہ اُٹھایا ہے۔یعنی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے ہیں۔اس کی تازہ مثال اس خط سے مل سکتی ہے۔جو چو ہدری محمد رمضان صاحب مولوی فاضل پلیڈر نے تحریر فرمایا ہے۔آپ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں لکھتے ہیں کہ خاکسار جناب حضرت مسیح موعود علیہ السّلام مرحوم و مغفور کی ہمیشہ 1914ء حضرت خلیفہ ایسی الثانی رضی اللہ تعالی عنہ اپنی اس تصنیف میں اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔کل شام کو حتی فی اللہ مولوی غلام رسول صاحب ساکن را نیکی لاہور سے تشریف لائے اور ایک کاپی اس رسالہ کی اپنے ساتھ لیتے آئے جس سے مجھے اس کا علم ہوا۔اور آج ۱۴ فروری کو دوپہر کے وقت یہ رسالہ پڑھنے کے بعد نماز ظہر سے فارغ ہو کر اس کا جواب میں نے لکھنا شروع کر دیا ہے" (حقیقة النبوة مش طبع اول)