سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 59

۵۹ جائیں۔چنانچہ میں نے یہ کام شروع کر وا دیا ہے اور اس وقت تک دس کے قریب سکول کھل چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔پس سکولوں کے کھلوانے کی کوشش کرو۔اس کے لئے انجمن ترقی اسلام کے ماتحت ہیں نے ایک سب کمیٹی بنا دی ہے جو سکولوں کے کھلوانے کا انتظام کرتی ہے " (ص) مذکورہ بالا مسائل پر اظہار خیال ، تجاویز اور نصائح کرنے کے علاوہ آپ نے دیگر بہت سے مسائل پر بھی گفتگو فرمائی مثلاً سلسلہ کے لئے واعظین اور علماء کی ضرورت اور ان کے متعلق مناسب اقدامات - قرآن با ترجمہ پڑھانے کی ضرورت اور اس کے مناسب انتظامات خط و کتابت کے ذریعہ دینی تعلیم کا انتظام۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور ان کے مطالعہ کا شوق پیدا کرنا اور ان کے امتحانات سلسلہ کے خصوصی عقائد کا انضباط اور ان پر رسالہ جات کی تدوین تاکہ جماعت میں بعد میں کسی قسم کا نظریاتی اختلاف یا غلط فہمی کا استمان نہ رہے۔منارة امسیح کی تعمیر نو سے متعلق تحریک بذریعہ ٹریکٹ تبلیغ کرنے کی ضرورت اور قوم کو اس غرض کے لئے قربانیوں کی طرف بلانا وغیرہ وغیرہ۔ان سب امور پر آپ نے سیر حاصل بحث فرمائی اور نہایت عمدہ اور ٹھوس پروگرام جماعت کے سامنے پیش کیا۔۲۸؍ دسمبر کی دوسری تقریر خالصہ دعوت الی اللہ پر مبنی تھی۔یه نهایت گهری علمی تقریر جس میں جگہ جگہ جماعت کو خواب غفلت سے بیدار کرتے ہوئے خدائے واحد و یگانہ کی طرف دوڑے چلے آنے کی دعوت دی گئی ہے۔دراصل اول تا آخر قرآن کریم کی مشہور آیت ، آیت الکرسی کی ایک نہایت دلکش تفسیر ہے جس میں خدا تعالیٰ کی مختلف صفات کا نہایت ہی دل آویز نقشہ کھینچا گیا ہے۔اس تقریر کا صرف ایک اقتباس نمونہ پیش ہے تا کہ آپ کے طرز بیان کا کچھ اندازہ ہو سکے۔اب میں بتاتا ہوں کہ وہ کیا شے ہے جس کی طرف میں آپ لوگوں کو بلاتا ہوں اور وہ کونسا ئکتہ ہے جس کی طرف آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔سنو! وہ ایک لفظ ہے۔زیادہ نہیں صرف ایک ہی لفظ ہے اور وہ اللہ ہے اسی کی طرف میں تم سب کو بلاتا ہوں اور اپنے نفس کو بھی اسی کی طرف بلاتا ہوں اسی کے لئے میری پکا رہے۔اسی کی طرف جانے کے لئے میں بگل بجاتا ہوں۔پس جس کو خدا تعالی