سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 56

09 کے لئے جب اپنی جماعت کے لڑکوں پر نظر ڈالتا ہوں تو ان کی شادیاں غیروں کے گھر ہوتی جاتی ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ اگر احمدی لڑکوں کی شادیاں غیر احمدیوں کے ہاں کی جائیں تو احمدی لڑکیاں کہاں جائیں۔کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ وہ غیر احمدیوں کے ہاں جا کر ابتلاؤں میں پھنسیں۔پس جماعت وہی قائم رہ سکتی ہے جو اپنے تمام افراد کا خیال رکھے۔آج کل تم اس بات کا خیال کر کے غیروں کی لڑکیاں نہ لو۔اور اپنوں کو ابتلاؤں سے بچاؤ تا کہ تمھاری جماعت مضبوط ہو رفت) نماز با جماعت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا : نماز باجماعت پڑھنے میں احمدیوں کو ایک وقت ہے۔اور وہ یہ کہ غیر احمدیوں کے پیچھے تو وہ نماز پڑھ نہیں سکتے۔اور بعض جگہ احمدی صرف ایک ہی ہوتا ہے اس لئے اسے نماز با جماعت ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔اور چونکہ نماز با جماعت ادا کرنے میں انسان کو وقت کی پابندی کرنی پڑتی ہے جب نماز با جماعت نہ ملے تو رفتہ رفتہ انسان سُستی کرنی شروع کر دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں نے جماعت کے ساتھ تو نماز پڑھنی ہی نہیں جس وقت چاہوں گا پڑھ لوں گا۔اس طرح وہ وقت کی پابندی نہیں کرتا اور آخر اول وقت نماز پڑھنے کی عادت جاتی رہتی ہے یا جمع کر کے نماز ادا کرنے کی عادت ہو جاتی ہے۔اور نماز باجماعت ادا کرنے سے تو ایسا غافل ہو جاتا ہے کہ اگر کہیں باجماعت نماز پڑھنے کا موقع مل بھی جائے تو بھی سستی کر دیتا ہے۔گو یہ عادت ایک مجبوری کی وجہ سے اسے پڑتی ہے لیکن احمدیوں میں ہرگز ہرگز شستی نہ ہونی چاہئیے۔جس وقت سستی پیدا ہوئی اسی وقت سے اس جماعت کی تباہی کا آغاز ہو جائیگا انعُوذُ بِالله مِن ذلك، پس جس گاؤں میں کوئی کیلا احمدی ہے وہ کوشش کرے کہ دوسرا پیدا ہو جائے۔مجھے امید ہے کہ اگر اس طرح کوشش کرے گا تو خدا تعالئے ضرور اس کا ساتھی پیدا کر دے گا لیکن اگر دوسرا ساتھی نہ ہو تو دوسرے گاؤں میں جا کر جہاں کوئی احمدی ہو دوسرے تیسرے دن نماز باجماعت پڑھو۔اور سستی کی عادت نہ ڈالو۔اگر تم اس کو بھولے تو یاد رکھو کہ پھر تم ترقی نہیں کر سکو گے۔