سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 345
۳۴۵ مساوا کے نتیجہ میں عاید ہو نیوالی ذمہ داریاں عورت اور مرد کے درمیان مساوات کے کیا معنے ہیں اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے عورتوں کو ان ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا جو اس نظریۂ مساوات کے نتیجہ میں ان پر عاید ہوتی ہیں۔آپ نے فرمایا :- را دین کے معاملہ میں مرد اور عورتیں دونوں یکساں جوابدہ ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ دین کی اشاعت میں دونوں حصہ نہیں اور جب تک دونوں حصہ نہ لیں اس وقت تک خدا تعالے کی پوری برکت ان پر نازل نہیں ہو سکتی۔پھر بھی کہتا ہوں مرد مردوں میں اور عورتیں عورتوں میں تبلیغ دین کریں۔وقت گزر رہا ہے۔مگر کام جس رفتار سے ہونا چاہیئے اس سے نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔۔میں عورتیں اور مرد پہلے اپنی درستی کریں اور پھر دوسرے لوگوں تک دین کو پہنچائیں۔والفضل ۱۵ار تاریخ ۶۱۹۲۰ ایک خطبہ جمعہ کے دوران آپ نے اس مضمون پر مزید روشنی ڈالی اور مغربی طرز کی آزادی کی مذمت کرتے ہوئے اسے اشاعت دین کی راہ میں روک قرار دیا۔اور احمدی عورت کو اس ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا جو اسلام اس پر عاید کرتا ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا: چند مہینوں سے میں عورہ کر رہا تھا کہ ہماری تبلیغ کے راستے ہیں بہت سی مشکلات نظر آرہی ہیں۔ہماری اندرونی اور بیرونی تبلیغ بہت سست ہے۔اس کی کیا وجہ ہے ؟ میں نے غور کر کے سمجھا کہ اس کی زیادہ تر وجہ عورتوں میں اس آزادی اور بے دینی کا پیدا ہوتا ہے جو ان میں مغرب کے اثر کی وجہ سے آگئی ہے ویسے تو اسلام نے بھی عورتوں کو آزادی دی ہے لیکن ان کی مغربی رنگ کی آزادی اُن کے احمدیت مسبول