سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 265

۲۶۵ چسپی نہیں لیتے کہ وہ خیال کرتے ہیں یہ دنیوی کام ہیں ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں وہ اپنے آپ کو اور لوگوں سے کچھ کچھ بالا سمجھتے ہیں۔ان کی مثال بالکل ان نمبر داروں کی سی ہوتی ہے جن کا ذکر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے یا اے شوھر۔چونکہ آپ کے سیاسی اصول سراسر دین کے تابع تھے اس لئے امن کو قائم رکھنے والی قرآنی تعلیم کی روشنی میں آپ کی سیاست کا ایک یہ اصل تھا کہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیئے جس سے فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو اور امن و امان کو خطرہ لاحق ہو جائے۔پس آپ کی تمام کوششیں ہمیشہ اس راہنما اصل کے تابع رہیں۔چهارم - آپ کی سیاست جھوٹ اور غلط بیانی سے کلیتہ پاک تھی اور آپ ہر گز جائز نہیں سمجھتے تھے کہ سیاسی اغراض کی خاطر جھوٹ کو آلہ کار بنایا جائے۔پنجم۔آپ اس اصول پر سختی سے کاربند تھے کہ جس مستحکم حکومت کے تحت کوئی شخص زندگی بسر کر رہا ہے اس کی پوری اطاعت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور عدم اطاعت کو کسی سیاسی مقصد کے حصول کے لئے ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا۔اسی طرح آپ سیاست میں قانون شکنی کے کسی رنگ میں بھی قائل نہ تھے۔ششم - حقوق کے مطالبات کے وقت قرآن کریم کی یہ آیت آپ کے لئے مشعل راہ تھی کہ:۔وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُوا (مائده آیت (و) کہ کسی قوم کی دشمنی تھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دو۔لہذا آپ کے مطالبات اس حد تک عدل پر مبنی ہوتے کہ محض اپنے حقوق پر ہی بحث نہ فرماتے بلکہ دوسروں کے حقوق کا بھی ذکر کرتے اور اپنے جائز مطالبات کے ساتھ فریق ثانی کے جائز حقوق کوبھی سلیم کرتے هفتم - آپ کے نزدیک گورنمنٹ کی اطاعت کے یہ معنے ہر گز نہیں تھے کہ حق بات کہنے سے گریہ کیا جائے۔یا خوشامد کا کوئی کلمہ زبان پر لایا جائے۔آپ کا مسلک یہ تھا کسی قوم میں اگر کوئی قابل تعریف چیز نظر آئے تو خواہ کوئی دشمن ہی کیوں نہ ہو اس کی تعریف کی جائے اور اگر قابل تعریف بات نہ پائی جائے تو حاکم وقت ہی کیوں نہ ہو، اس کی غلط تعریف کسی قیمت پر نہ کی ہے بلکہ مشورے ہمیشہ سو فیصدی حق پر مبنی ہوں۔اپنے اس موقف کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :- " تمہیں ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو گورنمنٹ کے خیر خواہ کہلاتے ہیں کہ وہ له الفضل ، جولائی ۱۹۳۳ء مث