سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 22

۳۲ A عرصہ تک وہاں رہیں۔جب اسلام کا بیج بویا جائے تو کسی شاگرد کے سپرد کر کے آپ دوسری جگہ جا کر کام کریں۔غرض جس رنگ میں تبلیغ آسانی سے ہو سکے کریں " (ص۲) زکوة خلیفہ وقت کے پاس آنی چاہیے!۔حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں بھی یہ تجویز میں نے پیش کی تھی پہلے تو میں ان سے بے تکلف تھا۔دو دو گھنٹہ تک مباحثہ کرتا رہتا تھا۔لیکن جب وہ خلیفہ ہو گئے تو کبھی میں اُنکے سامنے چوکڑی مار کر بھی نہیں بیٹھا کرتا تھا۔جاننے والے جانتے ہیں خواہ مجھے تکلیف بھی ہوتی مگر یہ جرات نہ کرتا اور نہ اونچی آوازہ سے کلام کرتا۔کسی ذریعہ سے میں نے انہیں کہلا بھیجا تھا کہ زکوۃ خلیفہ کے پاس آنی چاہیئے۔میں نے بتایا تھا کہ یزکیھم کے معنوں میں اُبھارنا اور بڑھانا بھی داخل ہے اور اس کے مفہوم میں قومی ترقی داخل ہے اور اس ترقی میں علیمی ترقی بھی شامل ہے اور اسی میں انگریزی مدرسه - اشاعتِ اسلام و غیر هما امور آجاتے ہیں۔اس سلسلہ میں میرا خیال ہے کہ ایک مدرسہ کافی نہیں ہے جو یہاں کھولا ہوا ہے۔اس مرکزی سکول کے علاوہ ضرورت ہے کہ مختلف مقامات پر مدر سے کھولے جائیں۔زمیندار اس مدرسہ با نہ میں لڑکے کہاں بھیج سکتے ہیں۔زمینداروں کی تعلیم بھی تو مجھ پر فرض ہے پس میری یہ رائے ہے کہ جہاں جہاں بڑی جماعت ہے۔وہاں سردست پرائمری سکول کھولے جائیں۔ایسے مدارس یہاں کے مرکزی سکول کے ماتحت ہوئی گے۔