سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 240

۲۴ گناہوں کا تو علم ہوتا ہے مگر وقت پر اسے ایسا جوش آجاتا ہے کہ اُسے کچھ یاد نہیں رہتا اور وہ برائی کا مرتکب ہو جاتا ہے یا اے بدیوں کی بحث میں حضور رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے انقلابی نقطہ نگاہ سے بھی حاضرین کو آگاہ کیا جو عموما معلمین اخلاق کے زیر بحث نہیں آتا لیکن اس زمانے کے بڑے بڑے ڈاکٹر اس طرف متوجہ ہو چکے تھے۔آپ نے فرمایا :- دنیا میں آج تک اس بات کو بہت کم سمجھا گیا ہے بلکہ انبیاء اور اولیاء کو علیحدہ کر کے میں کہ سکتا ہوں کہ اور کسی نے سمجھا ہی نہیں کہ گو بہت سی بدیاں ایسی ہیں جو شرعی بدیاں ہیں لیکن ان کا ارتکاب کرنے والا کسی شرعی گناہ کا مجرم نہیں ہوتا بلکہ وہ کسی جسمانی بیماری کا مریض ہوتا ہے یہ ایک وسیع مضمون ہے اور اللہ تعالے نے اس کے متعلق مجھے خاص علم دیا ہے اور میرا ارادہ ہے کہ اس پر مفصل لکھوں اور جب یہلم کامل ہو جاوے گا اس وقت بعض لوگ جو اب روحانی بیمار کہلاتے ہیں اپنے علاج کے لئے جسمانی ڈاکٹروں کے پاس جاویں گے اس وقت بعض بڑے بڑے ڈاکٹروں کی توجہ اس طرف ہو رہی ہے لیکن تاحال ان کی تحقیقات عالم طفولیت میں ہے مگر اس بارے میں مجھے جو علم دیا گیا ہے وہ ایسا وسیع ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان لوگوں کی تحقیقات سے بہت وسیع ہے یہ کوئی ایسا نیا علم نہیں جو مجھ سے پہلے اوروں کو نہیں دیا گیا۔خدا کے برگزیدہ اور پیارے بندوں کو دیا جاتا رہا ہے۔پھر قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا گیا اور آپ نے اس کا تذکرہ اصولاً اپنی کتب میں کیا بھی ہے۔مگر افسوس عام لوگوں نے اسے سمجھا نہیں اور اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا اب خدا تعالٰی نے وسیع طور پر مجھے یہ علم دیا ہے اور میں نے اس کے متعلق تحقیقات کی ہے جس سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ شرعی گناہوں کی ایسے رنگ میں تقسیم ہو سکتی ہے کہ فلاں قسم کا گناہ گار ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیئے اور فلاں قسم کا بزرگ کے پاس۔میں نے یہاں تک تو تحقیقات له عرفان الهی ص۲۹-۳۰