سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 239

۲۳۹ کہ یہ معمولی بات ہے۔۔۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان سے خدا کی کسی صفت کے معنے پوچھے جائیں تو بتا دیتے ہیں لیکن جب معنوں کا مطلب دریافت کیا جائے تو خاموش ہو جاتے ہیں اور ان کا وہی حال ہوتا ہے جو اس شخص کا ہوا جس نے نے ہم ہوئے تم ہوئے کہ میسر ہوئے اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے کے یہ معنے گئے تھے کہ ہم لوگ تم لوگ اور میر صاحب سب کو اس کے بالوں کی زینجیر کے ساتھ باندھ کر جیل خانہ بھیج دیا۔غرض صرف لفظوں کے معنے جانتے کافی نہیں ہوتے جب تک ان الفاظ کے ساتھ وہ کیفیت پیدا نہ ہو جو ان الفاظ سے وابستہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ انسان خدا کی ہر ایک صنعت کے معنے جانے اور پھر اس کی تفصیل کرے تاکہ اس صفت کی کیفیت اس کے دل میں بیٹھ جائے مثلاً کرتب کے معنے کرے کہ پیدا کرنے والا اور پیدا کر کے ترقی دینے والا۔آگے اس کی تفصیل کرے کہ ترقی دینے کے کیا معنے ہیں۔اور کس طرح ترقی دیتا ہے اور کس کس رنگ میں دیتا ہے۔جب تک اس صفت کی پوری پوری کیفیت دل میں پیدا نہ ہو جائے۔اس وقت تک تفصیل کرتا ہی رہے ہے اس کے بعد ایک اور اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی : موله ه عرفان الهی عرفان الہی کے حصول کا واحد ذریعہ اخلاق البتہ اپنے اندر پیدا کرتا ہے اور صفات الہیہ اس وقت تک انسان کے اندر پیدا نہیں ہوسکتیں۔جب تک پہلے انسان کا قلب بدیوں سے صاف نہ ہو۔پس سب سے اول روک عرفان الہی کے حاصل ہونے میں از تکاب گناہ ہے اور ارتکاب گناہ تین طرح ہوتا ہے اقول اس طرح۔۔۔۔کہ بعض لوگوں کو بعض بدیاں معلوم ہی نہیں ہوتیں اور لاعلمی سے وہ ان کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔پس اگر کوئی شخص بعض بدیوں سے غافل ہو گا تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری وجہ ارتکاب گناہ کی یہ ہوتی ہے کہ انسان کو لم