سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 16
یا نہیں۔میرا اللہ تعالے پر بھروسہ ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں جو میرا کوئی نقصان کر سکے یا مجھے کوئی نفع دے سکے۔پس اگر میں لوگوں کے جذبات کے ماتحت چل کر اتحاد جماعت کے خیال کو چھوڑ دوں تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ میں حکومت کا خواہاں ہوں نہ کہ خادم سلسلہ ہوں۔پس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ اُسی کی توفیق سے ہی میں ہر ایک ایسی تدبیر کروں گا۔جس سے جماعت کو پھر ایک فرد واحد کے ہاتھ پر جمع کرنا ممکن ہو۔میں اللہ تعالے پر امید رکھتا ہوں کہ وہ میرا دل بھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح مضبوط کر دے اور میں بھی کہہ سکوں کہ خواہ تم سب مجھے چھوڑ دو اور جنگل کے درندے بھی میرے مخالفوں کے ساتھ مل کر مجھے پر حملہ کریں تو میں اکیلا ان کا مقابلہ کروں گا جب تک کہ وہ میرے ہاتھ پہ اسی طرح نہ اکٹھے ہو جائیں جس طرح کہ خلیفہ اول کے ہاتھ پر اکٹھے ہو گئے تھے والله المستعان " الفضل ۶ اپریل ۱۹۱۳ ۱۶۰ اس دعاء ، اس عزم، اس توکل ، اس انابت الی اللہ اور سعی بپیچ بالآخر یہ نکلا کہ منتشر ہوتی ہوئی جماعت بڑی سرعت کے ساتھ پھر ایک ہاتھ پر اکٹھی ہونے لگی اور بکھرتے ہوئے اوراق پھر مجتمع ہو کر ایک مضبوط شیراز سے میں بندھ گئے وَلَيُبَةِ لَتَهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَهْنا کا وعدہ ایک مرتبہ پھر پورا ہوا۔ایک بار پھر یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ اسلام کی زندگی اس کی نمکنت اور اس کا امن ہمیشہ کے لئے نظام خلافت سے وابستہ ہو چکے ہیں۔کے سُوره نور آیت ۵۶