سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 200
خلیفہ وقت کی منظوری حاصل ہو اس حیرت انگیز نظام مشاورت کی تشکیل و ترویج میں جسے آج ہم انتہائی کامیابی سے رو عمل دیکھتے ہیں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ۵۲ سالہ محنت اور لگن اور ان تھک محنت کا غالب دخل ہے اور مجلس مشاورت کا جو ورثہ آپ جماعت کے لئے چھوڑ گئے ہیں وہ ایک احسان جاریہ ہے جو قیامت تک جماعت کی ہر آنے والی نسل کو مجبور کرتا رہے گا کہ دلی دعاؤں کے ساتھ اس عظیم مصلح کا شکریہ ادا کرتے رہیں والله الموفق۔سمند فکر کو ٹھوکروں سے بچانے کے لئے جو سب سے زیادہ شاندار اسلامی اصول آپ نے بار بار ذہن نشین کر وایا وہ یہ تھا کہ رائے دیتے وقت محض تقوی اللہ کو پیش نظر رکھا جائے دیگر حاضرین کی رائے کا لحاظ تو در کنار آپ کا موحدانہ مسلک تو یہ تھا کہ آخری فیصلہ سے قبل خود خلیفہ ایسیح کی رائے کے با وصف بھی اپنے ذاتی مشورہ کو تبدیل نہ کیا جائے محض اللہ ایسی رائے دی جائے ہو مشورہ دینے والا دیانتداری کے ساتھ رکھتا ہو۔ایک مرتبہ اسی طرز فکر کو تقویت دینے کی خاطر آپ نے ایجنڈے میں اپنی طرف سے بھی ایک تجویز رکھی اور جب یہ دیکھا۔کہ بعض مخلصین محض اس لئے اس تجویز کی تائید کر رہے ہیں کہ وہ خلیفہ المسیح کی طرف سے ہے۔تو آپ نے اپنے مدعا کو واضح کرتے ہوئے یہ نصیحت فرمائی : یکیں یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ محض اس خیال سے کہ کوئی تجویز میری طرف سے ہے اس پر غور نہ کرنا اور یہ سمجھ لینا کہ جو تجویز خلیفہ کی طرف سے پیش کی گئی ہے اس میں ضرور برکت ہوگی اس لئے ہمیں اس پر غور کرنے کی کیا ضرورت ہے درست نہیں۔دوستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ بحیثیت مشیر آپ لوگوں کا فرض ہے کہ دیانتداری کے ساتھ تجاویز پر غور کریں اور اگر سمجھیں کہ کسی تجویز میں نقائص ہیں یا اس پر عمل کرنے سے سلسلہ کو نقصان ہوگا یا مشکلات میں اضافہ ہو گا تو دلیری کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔۔۔۔۔۔آپ محض اس وجہ سے اس پر غور کرنے سے پہلو تہی نہ کریں کہ میری طرف سے یہ پیش کی گئی ہے۔بلکہ آپ کے دل کی گہرائیوں سے یہی آواز نکلے کہ اس تبدیلی کی ضرورت ہے تو اُسے چھپائیں نہیں بلکہ دلیری سے