سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 153
۱۵۳ کے لئے ضروری ہے کہ اپنے معززین کا احترام کرے ہیں یہ اجازت نہیں دوں گا کہ ایک ناظر، محصل کی طرح جائے بلکہ اس کا واجب احترام کرنا ضروری ہوگا کیونکہ وہ خلیفہ کا نائب ہوتا ہے۔ضروری ہو گا کہ جس صیغہ کا ناظر کہیں جائے وہاں کی جماعت میں اس صیغہ کا جو انچارج ہو وہ اسے ریسیو کرے۔پہلے سے جلسہ کا انتظام کر دیا گیا ہو اور جماعت کو ایک جگہ جمع کرنے کا انتظام ہو چکا ہوتا -۳- سب سے بڑا نقص مجلس معتمدین کا یہ ہے کہ اس کے قواعد کی پابندی نہیں ہوتی۔اور جب کسی فیصلہ کے متعلق پکڑا جاتا ہے کہ اس پر عمل کیوں نہیں ہوا تو کہا جاتا ہے عمل نہیں ہو سکتا۔میں کہتا ہوں اگر عمل نہیں ہو سکتا تو اُسے منسوخ کر دیا جاتا یہ کیا صورت ہے کہ قائد تو موجود ہو مگر کہا جائے اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔یہ بہت بڑا نقص ہے" در پورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صل۱ - ۲۶ و مشاورت ۶۱۹۳۹ ص۳۶) ناظروں کا فرض ہے کہ جو لوگ اُن سے ملنے آئیں ان سے عزت اور احترام سے پیش آئیں۔میں خود بھی کوئی کونے میں بیٹھنے والا شخص نہیں ہوں۔ہر روز دس پانچ بلکہ میں تمہیں اشخاص مجھے سے ملنے آتے ہیں جن میں غریب سے غریب بلکہ سائل بھی ہوتے ہیں لیکن جیسا اعزاز بڑے سے بڑے آدمی کا کرتا ہوں ویسا ہی چھوٹے کا بھی کرتا ہوں۔مثلاً حکومت کے عہدہ کے لحاظ سے ہماری ہندوستان کی جماعت میں چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب سب سے بڑے عہدیدار ہیں لیکن اُن کے آنے پر بھی لکیں ان کا استقبال اسی طرح کرتا ہوں جس طرح ایک غریب کے آنے پر۔اور میں اس بارہ میں چوہدری صاحب اور ایک غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔اسی طرح چوہدری صاحب کو کھڑا ہو کر ملتا ہوں جس طرح ایک غریب آدمی کو اور پہلے اُسے بٹھا کر پھر خود بیٹھتا ہوں بعض غریب آدمی اپنے اندازہ سے زمین پر بیٹھنا چاہتے ہیں۔مگر