سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 139
۱۳۹ ہے۔پھر اس پر عمل کرانا۔کہتے ہیں کوئی ہندو مسلمان ہو گیا تھا۔جب کبھی کوئی بات ہوتی تو رام رام کہتا۔جب پوچھا گیا تو کہنے لگا رام نکلتے ہی کلیگا یہی حالت ہماری جماعت کی ہے۔ابھی اخلاق کو سمجھے نہیں مگر جب سمجھائیں گے تو پھر بھی عمل کرتے وقت بھول جائیں گے اس لئے مشق کرانے کی ضرورت ہوگی۔میں نے ابھی تجربہ کیا ہے۔لاہور سے واپس آتے وقت میں ریل میں لیٹ گیا۔ابھی لیٹا ہی تھا کہ ایک صیغہ کے اعلیٰ رکن کی ایک ریل والے سے لڑائی شروع ہو گئی۔میں چُپ سنتا رہا کہ دیکھوں کس طرح گفتگو ہوتی ہے۔کوئی بیس منٹ تک جھگڑا ہوتا رہا۔اس ساری لڑائی میں وہ کارکن بہت بڑی غلطی میں مبتلا اور ناحق پر تھا۔اور باوجود اس کے بد اخلاقی سے کام لے رہا تھا۔اگر اس وقت میرے پاس وہ معاملہ فیصلہ کے لئے آتا تو میں اس کے خلاف فیصلہ کرتا۔تو وہ با وجود اخلاق کو جاننے کے اُن کے خلاف کر رہا تھا اور عمل کے وقت پورا نہ اتر رہا تھا۔پس اول ہمیں یہ بتانا ہے کہ اخلاق کیا ہیں اور جب یہ بتا دیں تو یہ بتانا ہوگا کہ ان کے قو عد کیا ہیں اور یہ بھی بتا دیں تو موقع پر استعمال کرانا ہوگا۔جب تک یہ نہ ہو اخلاق کی تربیت نہیں ہو سکتی۔یہ ایک آدمی کو سکھانا بھی بڑا مشکل کام ہے کجا یہ کہ جماعت کے ہر فرد کو سکھائے جا دیں اور ابھی تک تو بڑے بڑے آدمی بھی نہیں استعمال کر سکتے کجا یہ کہ جنگلی احمدی بھی استعمال کریں۔سب کے تربیت یافتہ ہونے کا خیال اتنا بڑا ہے کہ ذہن میں لاتے ہوئے دل ڈرتا ہے کہ کیا ایسا ہوگا۔مگر کرنا ہے کیونکہ ہمارا فرض ہے۔پھر روحانیت کی تعلیم ہے۔اخلاقی تعلیم کے بعد اس کا درجہ شروع ہوتا ہے۔روحانی تعلیم سے باطن کی صفائی ہوتی ہے۔لوگ موٹے موٹے مسائل سے واقفیت نہیں رکھتے مثلاً آداب خلیفہ اور