سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 137

١٣٧ نظارت تعلیم و تربیت نظارت تعلیم نوجوانوں کو قومی ضرورتوں کے مطابق تعلیم دلوائے اس غرض کے لئے وہ نوجوانوں کی ذہنیت کا جائزہ لیتی رہے۔یہ کام تیبھی ہو سکتا ہے جب سکولوں اور کالجوں کے طلباء سے رابطہ رکھا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ وہ کس کس لائن میں ترقی کر سکتے ہیں۔۲۔یہ محکمہ غرباء کو اُبھارنے کی کوشش کرے۔مثلاً اگر محکمہ کی طرف سے تحریک کی جائے کہ پندرہ میں زمیندار مل کر ایک لڑکے کی اعلیٰ تعلیم کا بوجھ اٹھائیں اور اسے قرمنہ کے طور پر ماہوار کچھ وظیفہ دے دیا کریں تو چند سالوں میں کئی لڑکے گریجوایٹ بن سکتے ہیں۔- معلم پیدا کرنا بھی ہمارے اس محکمہ کا کام ہے۔۴۔سلسلہ کی ضرورتوں کے مطابق مختلف فنون ، زبانوں اور کاموں کی تعلیم دلوانا بھی محکمہ تعلیم کے فرائض میں شامل ہے۔ہ اس بات کی کوشش کرنا کہ جماعت کا ایک ایک مرد ایک ایک بچہ ایک ایک عورت دین سے اس قدر واقفیت حاصل کرتے جومسلمان بننے کے لئے ضروری ہے جب تک ایسا نہ ہو ، تب تک ترقی نہیں ہو سکتی ایسے ایک اور موقع پرنر مایا :- "اس سے غرض جماعت کی دینی تعلیم و تربیت ہے۔علماء بنانا نہیں بلکہ ایسے مسائل سے واقف کرتا ہے کہ جن کے سوائے کوئی مسلمان مسلمان نہیں ہو سکتا۔اب کئی عورتیں آتی ہیں جو کلمہ بھی نہیں پڑھ سکتیں اور جب کلمہ نہیں پڑھ سکتیں تو نماز کس طرح رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء ص ۲۲