سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 112
کمریں کھول کر ایسے سوتے ہیں کہ انہیں پھر ہوش بھی نہیں رہتی۔لیکن مسلمان با وجود دن کو لڑنے کے رات کو گھنٹوں کھڑے رہ رہ کر دعائیں مانگتے ہیں ، خدا کے حضور گرتے ہیں۔یہ وہ بات تھی جس سے صحابہ نے دین کو قائم کیا با وجود اپنے تھکے ماندے ہونے کے بھی اپنے نفس کا خیال نہیں رکھا۔۔۔۔تبلیغ بہت عمدہ کام ہے۔مگر تبلیغ کرنے میں بھی انسان کے دل پر زنگ لگتا ہے۔کبھی اگر تقریر اچھی ہو گئی اپنے مقابل کے مباحث کو ساکت کرا دیا تو دل میں غرور آگیا اور کبھی اگر تقریہ اچھی نہ ہوئی۔لوگوں کو پسند نہ آئی تو مایوسی ہو گئی اور تھی یہ ایک دلیل دنیا ہے۔دل ملامت کرتا ہے کہ تو دھوکہ دے رہا ہے۔اس قسم کی کئی باتیں ہیں جو دل پر زنگ لاتی ہیں۔حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے تو آپ استغفار پڑھ لیا کرتے تھے حالانکہ آپ اعلیٰ درجے کے انسان تھے اور آپؐ کی مجلس میں بھی نیک ذکر ہوتا تھا۔یہ اس لئے تھا کہ آپ ہمارے لئے ایک نمونہ تھے۔یہ ہمیں سکھایا جاتا تھا کہ ہم ایسا کیا کریں۔کہ جب کسی مجلس میں بیٹھیں تو استغفار کرتے رہیں اس لئے کہ کسی قسم کا ہمارے دل پر زنگ نہ بیٹھے۔اس لئے ذکر الہی پر زیادہ زور دینا چاہیئے۔نماز وقت پر ادا کرنی چاہیئے ہاں اگر کوئی ایسا سی خاص موقع آجائے تو اگر نماز جمع کرنی پڑے تو کرے۔لیکن ہیں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں لوگ جھوٹ نماز جمع کر لیتے ہیں۔یہ مرض نماز جمع کرنے کی بہت پھیلی ہے۔ایسا نہیں چاہیئے۔روزہ بھی بڑی اچھی چیز ہے اور زنگ کے منتقل کرنے کے لئے بہت عمدہ آلہ ہے۔صحابہ بڑی کثرت سے روزہ رکھتے تھے۔۔۔۔۔۔بعض ایسے موقعے تلاش کرے جن میں کسی سے کلام نہ کرے۔خاموش ہو کر بیٹھے خواہ یہ وقت پندرہ بیس منٹ ہی ہو۔بہت وقت نہ سہی مگر کچھ وقت