سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 76

44 بچہ نے نئے مشغلہ کی طرف دیکھا اور ذرا چپ ہو کر پھر وہی رونا اور چلاتا اور یہ کہنا شروع کر دیا آیا تارے جانا“ (یعنی ابا میں ستارے پر جاؤں گا۔ناقل) کیا مجھے مزا آیا اور پیارا معلوم ہوا ! آپ کا اپنے ساتھ یوں تھے ! کا گفتگو کرنا یہ اچھا معلوم ہوا یہ ہم نے ایک راہ نکالی تھی اس نے اس میں بھی اپنی ضد کی راہ نکال لی۔آخر بچہ روتا رو تا خود ہی جب تھک گیا چُپ ہو گیا۔مگر اس سارے عرصہ میں ایک لفظ بھی سختی کا یا شکایت کا آپ کی زبان سے نہ نکلا یہ لے اس بچے کی بعد کی زندگی کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے ستاروں پر جانے کی یہ تمنا یقیناً ان بلند عزائم کی غماز تھی جو تمام عمر اس کی بے پناہ قوت عمل کے لئے مہمیز کا کام دیتے رہے علاوہ ازیں اس روایت سے حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی طبیعت کے اس پہلو پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ آپ کے دل میں بچوں کے لئے کس قدر شفقت پائی جاتی تھی اور آپ کسی درجہ حلیم تھے۔ایک ایسے مصروف الاوقات شخص کے لئے جس کا بال بال اہم ترین مصروفیات میں بندھا ہوا ہو اور مشکل رات کو پہلے پہر تھوڑا سا آرام کا وقت میسر آتا ہوا ایک روتے ہوئے بچے کو خود گود میں اُٹھا کر دلاسا دیتے ہوئے اس وقت تک پھرتے رہنا جب تک وہ خود ہی تھک کر سو جائے، آپ کے اعلیٰ اور حسین اخلاق کی ایک پیاری مثال ہے۔یہ تو بہت بچپن کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔اسی قسم کا ایک اور واقعہ نسبتا بڑی عمر میں بھی پیش آیا جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے اس سے بھی زیادہ صبر آزما تھا لیکن حضرت مرزا صاحب عدالیہ کلام کو اللہ تعالے نے غیر معمولی حلم اور صبر کا مادہ عطا فرمایا تھا اور طبعیت میں نرمی اتنی زیادہ تھی کہ بچوں پر ناراض ہونا آپ کے لئے ایک مشکل امر تھا۔وجہ خواہ کچھ بھی ہو یہ بات بہر حال قطعی ہے کہ اس بچے سے باپ کا سلوک غیر معمولی نرمی اور درگزر کا حامل تھا۔دوسری روایت بھی حضرت مولوی عبد الکریم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی بیان کردہ ہے اور حسب ذیل ہے : " محمود چار ایک برس کا تھا۔حضرت معمولاً اندر بیٹھے لکھ رہے تھے میاں محمود دیا سلاتی ہے کہ وہاں آئے اور آپ کے ساتھ بچوں کا ایک نے موعود مصنفہ حضرت مولانا عبد الكريم الصمت یار دوم