سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 75
40 بچپن کے ابتدائی ایام اور تربیت والدین عربی کا ایک محاورہ ہے " الصبی صَبِي وَلَو كَانَ نَبَيَا “ کہ بچہ بچہ ہی ہوتا ہے خواہ اس نے نبی ہی کیوں نہ بنتا ہو۔اس کے ساتھ اگ۔اردو کے اس محاورے کو ملا لیا جائے : ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ! تو یہ ایک مکمل صداقت بن جاتی ہے۔ہر چند کہ بچہ اپنی جبلتی طاقتوں کے لحاظ سے کتنے ہی بڑے مقام پر پہنچنے والا کیوں نہ ہو اس کے بچپن کی معصومیت اور بے ساختہ پن بھی اپنی جگہ قائم رہتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی بچپن ہی میں اس کے شاندار مستقبل کی جھلکیاں بھی وقتاً فوقتا نظر آتی رہتی ہیں۔صاحب فراست لوگ ایسے بچے کو دیکھ کر بخوبی پا جاتے ہیں کہ بالائے سرش زہوش مندی کے مے تافت ستاره بلندی اگر خدا کا فضل شامل حال رہے تو یہ بچہ ایک دن عظیم انسان بننے والا ہے۔حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ تعالے عنہ کے بچپن میں ان دونوں صداقتوں کا ایک حسین امتزاج نظر آتا ہے۔اس امتزاج کے نمونے کے طور پر آپ کے بہت بچین کا ایک واقعہ حضرت مرزا صاب علیہ السلام کے ایک بزرگ صحابی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ عبدال ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں : ترو ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیه السلام لدھیانہ میں قیام فرما تھے۔میں بھی وہیں تھا محمود کوئی تین برس کا ہوگا۔گرمی کا موسم تھا۔مردانہ اور زنانہ میں دیوار حائل تھی۔آدھی رات کا وقت تھا جو میں جاگا اور مجھے محمود کے رونے اور حضرت کے ادھر اُدھر کی باتوں میں بہلانے کی آواز آئی۔حضرت اسے گود میں لئے پھرتے تھے اور وہ کسی طرح چپ نہیں ہوتا تھا۔آخر آپ نے کہا دیکھو محمود ! وہ کیسا تارا ہے !"