سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 74

ہاتھوں اس طرح مارا گیا کہ اس نے چھری کے پے در پے وار کر کے پیٹ چاک کر دیا اور انٹریاں باہر نکل پڑیں۔چنانچہ چند گھنٹے نہایت اذیت ناک عذاب میں مبتلارہ کر ڈاکٹروں کی ہر کوشش کو ناکام بناتے ہوئے لیکھرام اور مارچ شہہ کو خائب و خاسر اس دنیا سے اٹھ گیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس عرصہ میں اللہ تعالے نے حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کو دو اور بھی بیٹے عطا فرمائے اور یہ دونوں بھی بشارت کے مطابق پیدا ہوتے پر لیکھرام کی موت کے وقت حضرت مرزا صاحب کو ایک ہی نہیں تین منتشر بیٹے عطا ہو چکے تھے جو تینوں کے مینوں اپنے اپنے رنگ میں عظمت کے نشاں لئے ہوئے تھے۔یہ ذکر گزر چکا ہے کہ حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی مذکورہ پیش گوئی کے مقابل پر لیکھرام کی پیشگوئی بھی اس لئے خاص اہمیت رکھتی تھی کہ چونکہ یہ دونوں پیشگو تیاں ایک ہی خدا کی طرف منسوب کی جارہی تھیں اور بیک وقت ایک دوسرے کی ضد بھی تھیں اس لئے یہ امر بہر حال قطعی طور پر ثابت تھا کہ ایک اُن میں سے یقیناً جھوٹی ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قو قطعی طور پر ایک جھوٹی پیشگوئی خدا کی طرف منسوب کی جارہی ہو تو خدا کا سلوک ایسے بے باک انسانوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے ؟ اس نہایت اہم سوال کے جواب کے طور پر ہم نے یہاں پنڈت لیکھرام کی نامراد موت کا ذکر کیا ہے۔اگر یہ منطقی امکان اس بات کا موجود تھا کہ دونوں پیشگوئیاں غلط ہو میں لیکن خدا تعالٰی کے اس مختلف سلوک نے جو بعد میں ظاہر ہوا، قطعی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ پنڈت نے جو بعدمیں نا ہونا کر دیا لیکھرام کی پیشگوئی جھوٹی تھی اور حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی سچی تھی۔