سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 54
۵۴ ہو جاتا جس کے دُنیا میں آنے سے نہ دنیا کو کچھ فائدہ پہنچتا تھا نہ خود اس کو آرام ملتا تھا اور نہ اس کے عزیزوں کو کوئی سچی خوشی حاصل ہوتی تھی، سو اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا سے بھی کوئی روح دنیا میں آئی تو و حقیقت اس کا آنا نہ آنا برابر تھا اور بغرضِ محال اگر ایسی رُوح کتی سال جسم میں باقی بھی رہتی تب بھی ایک ناقص روح کسی بہ ذیل یا دنیا پرست کی جو احد من الناس ہے دنیا کو کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی ہے مگر اس جگہ بفضلہ تعالیٰ و احسانه و برکت حضرت خاتم الانبیاء صل اللہ علیہ آلہ وسلم خدا وند کریم نے اس عاجز کی دُعا کو قبول کر کے ایسی با برکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔سو اگر چہ بظاہر یہ نشان احیائے موتی کے برابر معلوم ہوتا ہے گر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ نشان مُردوں کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ بہتر ہے۔مردہ کی بھی روح ہی دُعا ہے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ایک روح ہی منگائی گئی ہے۔مگر اُن روحوں اور اس روح میں لاکھوں کو سوں کا فرق ہے۔جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے بلکہ اُن کو بڑا رنج پہنچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ اسے پس به امر خوب ذہن نشین رہے کہ محض ایک بیٹے کی ولادت کی پیش گوئی نہیں کی گئی' ایک ایسے فرزند جلیل کی پیشگوئی کی گئی ہے جو عمر پانے والا ہو گا، نہایت ذکی اور نسیم ہوگا۔صاحب شکوہ اور والا عظمت اور دولت ہوگا۔تو میں اس سے برکت پائیں گی۔وہ علوم ظاہری و باطنی سے پیر کیا جائے گا۔کلام اللہ یعنی قرآن کریم کا نہایت گہرا فہم اس کو عطا ہوگا اور اس خداداد فہم سے کام لے کر وہ قرآن کی ایسی عظیم الشان خدمت کی توفیق پائے گا کہ کلام اللہ کا مرتبہ دنیا پر ظاہر ہو۔وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔وہ عالم کباب ہو گا یعنی اس کے دور حیات میں ایسی عالمگیر تباہیاں آئیں گی جو سب دُنیا کو بُھون کر رکھ دیں گی۔وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔کیا یہ تمام صفات اور ان کے علاوہ اور بہت سی خصوصیات جو اس موعود بیٹے کی بیان کی گئی ہیں محض ایک کے بعد دوسرے رونما ہونے والے اتفاق پر آس لگا کر بیان کی جا سکتی ہیں ؟ وہ شخص جس کی اپنی زندگی خطرے میں ہوا جس کی اپنی شہرت اور اس کے سلسلہ کی بقامہ دنیا کی نظر ا تبلیغ رسالت جلد اول ۴۰۰۳ و اشتهار ۲۰ ر ماریخ ۱۸۸۶ مندرجه مجموعه اشتهارات جلد اول ص ۱۱۴ ۱۱۵