سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 37
اوتار بن کر آئے گا اور عیسائیوں کا سیح خدا کے بیٹے کی حیثیت سے تقسیم اختیار کر کے تثلیث پر ایمان لانے کو ذریعہ نجات بتائے گا یا بدھ اس لئے جنم لے گا کہ دنیا کو ایک دفعہ پھر بدھ مت کی تعلیم دے اور زرتشت اس لئے نزول فرمائے گا کہ آتش پرستی کی طرف دنیا کو دعوت دے یہ تصور مضحکہ خیز اور محال ہے کہ بیک وقت کئی پیچھے اور خُدا کے پیارے رشی یا اوتار دُنیا میں ظاہر ہو کر اہل دنیا کو متضاد اور متصادم تعلیمات کی طرف بلائیں۔کوئی توحید کو ذریعہ نجات بتلاتا ہو تو کوئی بت پرستی کو کوئی تعقیدہ تثلیث کو مدار نجات قرار دے رہا ہو تو کوئی آگ کی پوجا کو۔واقعہ یوں ہے کہ یہ سب اپنے اپنے وقت میں در اصل ایک ہی خدا کے خلیفہ اور مظہر تھے ، گو مختلف اوقات میں مختلف ناموں سے مختلف مصیبتیں ظاہر ہوئیں لیکن اس پہلو سے اُن میں کوئی فرق نہیں کہ سب ایک ہی بالا رہستی کے پیغامبر تھے۔پس ان کے دوبارہ آنے کا بھی صرف یہی مطلب ہے کہ جب ان کی قومیں بگڑ جائیں گی اور ان کی تحقیقی تعلیم کو منع کر دیں گی تو خدا کی طرف سے ایک ایسا مصلح ظاہر ہو گا جس کا آنا گویا خود اُن ہی کا آنا ہے۔پیس آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا امام تو ایک ہی ہو گا لیکن مختلف مذاہب کی طرف سے اُسے مختلف تمثیلی نام دیتے جائیں گے کہیں اسے کرشن کے نام سے پکارا جائے گا تو کہیں بڑھ کے لقب سے کہیں مسیح ابن مریم ظاہر کیا جائے گا تو کہیں زرتشت۔اور یہ مختلف متمثیلی نام رکھنے کا مقصد یہ ہوگا کہ جملہ مذاہب کے پیرو خود اپنی اپنی کتب مقدسہ میں بیان کردہ علامتوں سے آنے والے مصلح کو پہچان کر اس کی اس طرح اطاعت کریں جیسے وہ اپنے مذہب کے نہایت قابل تعظیم اور واجب الاطاعت امام کی کرتے تھے گویا اس کا آنا خود اُن کے اُن اپنے امام کا آنا قرار پائے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اذان پاکر آپ نے یہ دعوی کیا کہ چونکہ آخری شریعیت اور آخری روحانی سلطنت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے لہذا اس حیثیت سے میں ہی آپ کا وہ روحانی فرزند اور غلام کا مل ہوں جو اسلام کے احیائے نو کے لئے مبعوث کیا جانا تھا اور جسے جملہ مذاہب عالم کے موعود مصلحین کی نمائندگی بھی سونپی جانی تھی۔پس میں ہندوؤں کا آنے والا کرشن بھی ہوں اور عیسائیوں کا موعود سیح بھی اور تمام دیگر مذاہب کے ان ائمہ کا نمائندہ بھی ہوں جن کا صدیوں سے انکار کیاجارہا تھا چنانچہ امام اسی میں بھی آپ کو ان تمام نبیوں کا نمائندہ قرار دیا گیا جن کی مختلف قوموں کو انتظار تھی۔جیسا کہ فرمایا جَرِى اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاء : یعنی خدا کا پہلوان سب نبیوں کے لبادہ میں (تذکرہ طبع سوم ص 49)