سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page iv of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page iv

n شہاد میں ثبت کرتا ہے گا کہ آپ اُن ممتاز ابنائے آدم میں سے تھے جو صدیوں ہی میں نہیں بلکہ ہزاروں سال میں کبھی ایک بار اُفتی انسانیت پر طلوع ہوتے ہیں اور جن کی روشنی صرف ایک نسل کو نہیں بلکہ بیسیوں انسانی نسلوں کو اپنی ضیا پاشی سے منور کرتی رہتی ہے۔آپ بانی تسلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کے دوسرے خلیفہ کی حیثیت سے اس وقت مسند خلافت پر متمکن ہوئے جب آپ کی عمر صرف ۲۵ برس تھی مسلسل ۵۲ سال تک آپ نے خلافت احمدیہ کی عظیم ذمہ داریوں کو سرانجام دیا اور ۷۷ سال کی عمر میں وفات پائی۔۵۲ سال کا عرصہ ہندوستان کی اوسط انسانی عمر کے لحاظ سے تقریباً دو انسانی عمروں کا عرصہ بنتا ہے۔یہ تمام عرصہ آپ نے ہمہ تن مشغولیت کے عالم میں صرف کیا۔آپ کے خطبات اور تقاریر اور مختلف تقاریب پر خطابات کی تعداد ہی ہزاروں تک جا پہنچتی ہے۔بیسیوں اہم تصانیف ہیں۔سینکڑوں سفر اور دیگر مشاغل کا ذکر اخبارات کے ہزار ہا صفحات پر پھیلا پڑا ہے۔اگر چہ آج آپ کے اکثر ہمعصر ؟ اس دنیا سے اُٹھ چکے ہیں لیکن آج بھی ہزاروں ایسے احباب زندہ موجود ہیں جو آپ کے اخلاق اور عادات اور احسانات کی میٹھی یا دیں لئے ہوتے ہیں۔ہزاروں صفحات پر مشتمل ایسا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے جس میں آپ کو قریب سے دیکھنے والوں نے اپنے تاثرات اور خیالات کا اظہار کیا ہے۔اس تمام مواد کی چھان بین اور انتخاب اور مناسب ابواب میں اس کی برمحل ترتیب کوئی معمولی کام نہیں۔آپ کی بچپن کی زندگی کے حالات بھی یکجائی صورت میں نہیں ملتے بلکہ ورق در ورق بکھرے پڑے ہیں۔آپ کے بعض ہمعصر بچپن کے ساتھی ایسے ہیں جو آج بھی بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہیں اور بعض نے ابھی قریب کے زمانہ میں ہی وفات پاتی ہے۔ایسے بزرگان سے اُن کی یادوں کو کرید کر قابل ذکر واقعات کی جستجو کوئی معمولی کوشش نہیں۔میں ایک دفعہ پھر محترم ملک سیف الرحمن صاحب کی محنت اور کاوش کو سراہنے پر مجبور ہوں کہ انہوں نے بڑی تندہی اور لگن سے ایسا مواد اکٹھا کر کے میرے کام کو آسان کر دیا لیکن اس کے باوجود ابھی بہت سے ایسے بزرگ تھے جو اپنی عمر کی زیادتی اور صحت کی کمزوری کے باعث محض اخباری اعلانات یا خطوط کے ذریعہ کچھ لکھنے کی طاقت نہ پاسکے یا بعض دیگر مصروفیات اور مشاغل کے باعث اتنا وقت فارغ نہ کر سکے کہ اپنی یادوں کو مجتمع کر کے پورے انہماک کے ساتھ اس موضوع پر قلم اُٹھا سکیں۔ایسے متعدد دوستوں سے رابطہ پیدا کر کے اُن کی قیمتی یادوں کا سرمایہ اکٹھا کرنے کی کوشش ہماری طرف سے آج بھی جاری ہے۔