سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 340
۳۴۰ میں کوئی حصہ اب منسوخ نہیں ہو سکتا۔صحابہ کرام رضوات الله عليهم اجمعین کے اعمال کی اقتداء کرو۔وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور کامل تربیت کا نمونہ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرا جو اجماع ہوا وہ خلافت حقہ راشدہ کا سلسلہ ہے۔خوب غور سے دیکھ لو اور تاریخ اسلام میں پڑھ لو کہ جو ترقی اسلام کی خلفائے راشدین کے زمانہ میں ہوئی جب وہ خلافت محض ملوکیت کے رنگ میں تبدیل ہو گئی تو تو گھٹتی گئی یہاں تک کہ اب جو اسلام اور اہلِ اسلام کی حالت ہے تم دیکھتے ہو۔تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس منہاج نبوت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدں کے موافق بھیجا اور اُن کی وفات کے بعد پھر وہی سلسلہ خلافت راشدہ کا چلا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح مولانا نور الدین صاحب اُن کا درجہ اللہ علیین میں ہو۔اللہ تعالٰی کروڑوں کرور قیمتیں اور برکتیں اُن پر نازن کرے میں طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت اُن کے دل میں بھری ہوئی اور اُن کے رگ دریشہ میں جاری تھی جنت میں بھی اللہ تعالیٰ انہیں پاک وجو دون اور پیاروں کے قرب میں آپ کو اکٹھا کرئے اس سلسلہ کے پہلے خلیفہ تھے۔اور ہم سب نے اسی عقیدہ کے ساتھ ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ہیں جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اسلام مادی اور روحانی طور پر ترقی کرتا رہے گا۔۔۔۔۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ایک خوف ہے اور اپنے وجود کو بہت ہی کمزور پاتا ہوں۔حدیث میں آیا ہے کہ تم اپنے غلام کو وہ کام مت بتاؤ جو وہ کر نہیں سکتا۔تم نے مجھے اس وقت غلام بنانا چاہا ہے تو وہ کام مجھے نہ بتانا جو میں نہ کر سکوں۔میں جانتا ہوں کہ میں کمزور اور گنہ گار ہوں میں کس طرح دعوی کر سکتا ہوں کہ دنیا کی ہدایت کر سکوں گا اور حق اور راستی کو پھیلا سکوں گا۔ہم تھوڑے ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی تعداد بہت۔