سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 339

۳۳۹ شاہ صاحب نے کہا میں بیعت کے الفاظ بولتا جاتا ہوں۔آپ اُن کو دُہراتے ہوئے لوگوں کی بیعت لینا قبول کریں۔غرض جب حاضر الوقت لوگوں کا اصرار بڑھا تو آپ نے پوری ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اپنا ہاتھ بیعت لینے کے لئے بڑھایا اور بیعت شروع ہو گئی۔الفاظ بیعت کا سُنتا تھا کہ یک لخت مجلس پر ایک سناٹا چھا گیا۔جولوگ قریب نہیں پہنچ سکتے تھے انہوں نے اپنی پگڑیاں پھیلا کر یا ایک دوسرے کی پیٹھوں پر ہاتھ رکھ کر بیعت کے الفاظ دہراتے ہے اور اس طرح خدا کے مسیح کی یہ ا پیش خبری مکر بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی کہ میں خدا کی ایک قسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے " بیعت کے بعد لمبی دُعا ہوئی پھر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی ایده الله تعالیٰ بِنَصْرِدِ الْعَزِیز نے ایک روح پرور اور سکینت بخش تقریر فرمائی۔آپ نے فرمایا: "دوستو ! میرا یقین اور کامل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔میرے پیارو ! پھر میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔میرا ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نہیں آسکتا جو آپ کو دی ہوتی شرعیت ں سے ایک شعشہ بھی منسوخ کر سکے۔میرے پیارو ! میرا دہ محبوب آقا سید الانبیا تر ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اتباع اور وفاداری کے بعد نبیوں کا رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔یہ سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ایسی شان اور عزت ہے کہ آپ کی سچی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے۔یہ میرا ایمان ہے اور پورے یقین سے کہتا ہوں۔پھر میرا یقین ہے کہ قرآن مجید وہ پیاری کتاب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی ہے اور وہ خاتم الکتب اور خاتم شریعت ہے۔پھر میرا یقین کامل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام و ہی نبی تھے جس کی خیر مسلم میں ہے اور وہی امام تھے جس کی خبر بخاری میں ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ شریعیت اسلامی کے آئینہ صداقت صث ، خلافت ثانیہ کا قیام صب۔۔