سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 338
م جمع ہوئے۔قریبا دو ہزار کا مجمع تھا۔سب سے پہلے نواب محمد علی خاں صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی وصیت پڑھ کر سنائی جس میں جماعت کو ایک ہاتھ پر جمع ہو جانے کی نصیحت تھی۔مولانا سید محمد من صاحب امروہی نے جو جماعت کے بڑے بزرگوں میں سے تھے کھڑے ہو کر تقریر کی اور خلافت کی ضرورت اور اہمیت بتاکر تجویز کی کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے بعد میری رائے میں ہم سب کو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ پر جمع ہو جانا چاہتے کہ وہی ہر رنگ میں اس مقام کے اہل اور قابل ہیں۔اس پر سب طرف سے ہاں حضرت میاں صاحب حضرت میاں صاحب کی آواز میں اُٹھنے آوازیں لگیں اور سارے مجمع نے بالاتفاق اور بالاصرار کیا کہ ہم اس تجویز کو بدل و جان قبول کرتے ہیں۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب اور اُن کے بعض رفضا بھی موجود تھے۔مولوی محمد علی صاحب نے مولوی محمد احسن صاحب کی تقریر کے بعد کچھ کہنا چاہا اور اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔اسی اثناء میں دوسری طرف سید میر حامد شاہ صاحب کھڑے ہو گئے۔دونوں کچھ کہنا چاہتے تھے مگر سید صاحب چاہتے تھے کہ وہ پہلے اپنا عندیہ بیان کریں اور مولوی صاحب اپنے خیالات پہلے سنانا چاہتے تھے۔ان دونوں بزرگوں میں کچھ دیر تک باہم رد و کد ہوتی رہی بسید صاحب مرحوم مولوی صاب سے اور مولوی صاحب سید صاحب سے صبر اور انتظار کرنے کی درخواستیں کرتے رہے۔وہ کہتے مجھے پہلے کچھ کہ لینے دیں اور وہ فرماتے مجھے عرض کر لینے دیں۔غرض اس طرح ایک مجادلہ کی صورت بن گئی۔اس پر شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ نے جرات کی اور عرض کیا کہ ان جھگڑوں میں یہ قیمتی وقت ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ہمارے آقا حضرت صاحبزادہ صاحب ہماری بیعت قبول فرما دیں اس پر حاضرین مجلس بلا توقف بے اختیار لبتك لبنك کہتے ہوئے حضرت صا حبزادہ صاحب کی طرف H بڑھے۔-- یہ نظارہ اور لوگوں کا جوش و خروش کسی دیکھنے والے کو بھول نہ سکتا تھا۔لوگ چاروں طرف سے بیعت کے لئے ٹوٹے پڑتے تھے اور یوں نظر آتا تھا کہ خدائی فرشتے لوگوں کے دلوں کو پکڑ پکڑ کر منشائے ایزدی کی طرف کھینچے لارہے ہیں۔اس وقت شوق کا یہ عالم تھا کہ لوگ ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔چاروں طرف سے آواز اُٹھ رہی تھی کہ حضور ا ہماری بیعت قبول کریں۔حضور ا ہماری بیعت قبول کریں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے چند لمحات کے تامل کے بعد میں میں ایک عجیب قسم کا عالم تفکر تھا، فرمایا مجھے تو بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں، اس پر مولوی سید سرور