سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 337
که اول تو سوال یہ ہے کہ اختلاف کیا ہے۔پھر یہ سوال ہے کہ اس قدر عرصہ میں انجیر کسی رہنما کے جماعت میں فساد پڑا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے موقع پر اس طرح ہوا تھا کہ جولوگ جمع ہو گئے تھے۔انہوں نے مشورہ کردیا تھا اور یہی طریق پہلے زمانہ میں بھی تھا۔چھ چھے ماہ کا انتظار نہ کبھی پہلے ہوا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد۔مولوی محمد علی صاحب نے جواب دیا کہ اب اختلاف ہے پہلے نہ تھا۔دوسرے اس انتظار میں حرج ہی کیا ہے اگر خلیفہ نہ ہو تو اس میں نقصان کیا ہوگا ؟ وہ کونسا کام ہے جو کل ہی خلیفہ نے کرنا ہے۔آپ نے اُن کو جواب دیا کہ اس بات کا فیصلہ تو جماعت حضرت مسیح موعود کی وفات پر ہی کر چکی ہے کہ اس جماعت میں سلسلہ خلافت چلے گا۔اس پر دوبارہ مشورہ بے معنی ہے اب یہ سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔اگر مشورہ کا سوال ہے تو صرف تعین خلیفہ کے متعلق ہے۔اور یہ جو آپ نے کہا ہے کہ خلیفہ کا کام کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کا کام علاوہ روحانی نگہداشت کے جماعت کو متحد رکھنا اور فساد سے بچانا ہے اور یہ کام نظر نہیں آیا کرتا کہ میں آپ کو معین کر کے بتادوں۔خلیفہ کا کام روحانی تربیت اور نظام کا قیام ہے نہ روحانی تربیت مادی چیز ہے کہ میں بتا دوں کہ وہ یہ کام کرے گا اور نہ فساد کا کوئی وقت معین ہے کہ فلاں وقت تک اس کی ضرورت پیش نہ آوے گی۔ممکن ہے کہ کل ہی کوئی امر ایسا پیش آجا دے جس کے لئے کسی نگران ہاتھ کی ضرورت ہو۔پس آپ اس سوال کو جانے دیں کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو میشورہ اس امر کے متعلق ہونا چاہیئے کہ خلیفہ کون ہو۔اس پر مولوی صاب نے کہا اس میں وقت ہے۔چونکہ عقائد کا اختلاف ہے اس لئے تعین میں اختلاف ہوگا۔ہم لوگ کسی لیے شخص کے ہاتھ پر کیونکر بیعت کر سکتے ہیں جس کے ساتھ ہمیں اختلاف ہو۔آپ نے جواب دیا کہ اول تو ان امور اختلافیہ میں اب تک کوئی ایسی بات نہیں جس میں اختلاف ہمیں ایک دوسرے کی بیعتہ سے رو کے لیکن بہر حال ہم اس امر کے لئے تیار ہیں کہ آپ میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔اس پرر مولوی صاحب نے کہا کہ بیشکل ہے اور آپ جانتے ہیں کہ لوگوں کی کیا رائے ہے۔عرض اس طرح کوئی فیصلہ ہوئے بغیر یہ گفت گو بھی ختم ہوتی۔پس جب کہ کوئی صورت سمجھوتہ کی باقی نہ رہی اور مولوی محمد علی صاحب اور آپ کے رفقا حضرت خلیفہ اول نہ کی وصیت کے باوجود نظام خلافت قائم رکھنے پر راضی نہ ہوتے تو سم از مارچ سالہ بروز ہفتہ قادیان میں حاضر الوقت احمدی احباب عصر کی نماز کے بعد انتخاب خلافت کے لئے مسجد نور میں کے اختلاف سلسلہ کی تاریخ کے صحیح حالات من ، آیینه صداقت منها 1910