سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 328
میں مصروف تھی۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ سے محبت اور آپ کی تکلیف کے احساس سے دلوں کی یہ کیفیت تھی کہ انہی ایام میں جب ایک مرتبہ آپ نے درس قرآن دیا تو آپ کے لہجہ کی درد انگیزی سے متاثر ہو کر سُنے والے بے اختیار رو پڑے اور بعض کمزور طبائع رکھنے والے سامعین کی تو فرط درد سے چیخیں نکل گئیں۔آپ کے اس درس میں ایک گونا وصیت کا رنگ پایا جاتا تھا جس سے سامعین پر یہ تاثر پڑ نا قدرتی امر تھا کہ ان کا محبوب امام اُن سے جُدا ہونے کو ہے۔افسوس ہے کہ ایسے وقت میں بھی منکرین خلافت اپنی سعی مذموم سے باز نہ آئے بلکہ اس بیماری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور یہ یقین کر کے کہ اب یہ صاحب جلال بزرگ کبھی منبر رسول پر تھڑا ہو کر اُن کے فتنوں کی مذمت اور اُن کے فاسد خیالات کی بیخ کنی نہیں کر سکے گا پہلے سے بھی بڑھ کر اپنی کوششوں میں تیز ہو گئے۔ایک طرف تو اُن کو یہ غم کھائے جارہا تھا کہ جماعت کہیں مستقلاً ہی نظام خلافت کو اپنا نہ لے اور اُن کے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکیں کہ خلیفہ ایسیح کی وفات کے بعد آخر انہی کی بادشاہی کے دن آئیں گے۔دوسری طرف یہ فکر دامنگیر تھا کہ اگر جماعت نے نفلم خلافت کو اپنا نا ہی ہے تو مبادا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو نیا امام منتخب کرے۔اس دوہری تکلیف کا تصور اُن کے لئے سوہان روح بنا ہو ا تھا۔اور طبیعتیں اس امکان کے بنا خلاف سیخ پا ہوئیں اور سرکشی کرتی تھیں۔چنانچہ انہی خدشات اور توہمات میں غلطاں ایک طرف تو انہوں نے سرے سے خلافت کے نظام کو ختم کرنے کا بیڑہ اٹھارکھا تھا اور زبانی چہ میگوئیوں اور گمنام ٹریکٹوں کے ذریعے جماعت کو خلافت سے برگشتہ کرنے کی کوششیں تیز سے تیز تر کردی گئی تھیں۔دوسری طرف اس امکان کی پیش بندی کے لئے بھی سکیم بنائی جارہی تھی کہ اگر خلیفہ بنا ہی ہے تو حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احد صاحب خلیفہ نہ ہوں۔چنانچہ آپ پر کسی قسم کے ذاتی حملے کرکے آپ کو بدنام کرنے کی بنت نئی راہیں تجویز کی جاتیں اور جماعت کی نظر میں آپ کا مقام گرانے کی ہر ممکن سعی کی جاتی۔یہ سب کچھ ہوا لیکن احباب جماعت کے قلوب میں آپ کی محبت بڑھتی ہی رہی اور ہر طرف آپ کے خلوص، آپ کے تقویٰ آپ کے دینی کاموں میں انہماک اور آپ کے علم و معرفت اور صدق و صفا کے چرچے ہونے لگے۔یہ حالات منکرین خلافت کے لئے سخت تشویشناک تھے۔اُن کے توہمات کی نوعیت اور تشویش کی شدت کا کچھ اندازہ مندرجہ ذیل واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام میں ایک مرتبہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کے پاس تشریف لاتے اور فرمایا :-