سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 302
بھی درس فرمایا کرتے ہیں۔چنانچہ میں بھی وہاں حاضر ہوا مجھے اس درس میں صرف چند روز ہی شامل ہونے کا موقع ملا۔حضور نے قرآن کریم کے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے معارف و حقائق بیان فرما کر ایک طرف تو لاَ يَمَةَ إِلا الْمُطَهَّرُون کے مطابق اپنی پاکیزہ زندگی کا ثبوت دیا۔اور دوسری طرف کسی مشکل مقام قرآن مجید کے معنے معلوم کرنے کے لئے کوشش کرنے اور پھر سمجھنے کے لئے دعائیں کرنے اور پھر اس کا حل پانے کا ذکر فرما کر اپنے عشق قرآن شریف اور تعلق باللہ کا ثبوت الغرض اس قلیل عرصہ میں مجھ پر حضور کے عشق و فہم قرآن کریم طهارت و تقومی تعلق بالله اجابت دعا اور مظہر زندگی کا گہرا اثر ہوا جو کہ باوجود مرور زمانہ کے دل سے ہر گز دور نہیں ہوا۔اور یہی اثر تھا جو کہ بفضلہ تعالیٰ حضور کو خلیفہ برحق مانتے ہیں کام آیا۔الحمد لله على ذلك یہ اس وقت کی بات ہے جس کو اب انتیس سال گزر چکے ہیں۔اور اب تو ماشاء اللہ حضور کا علم ایک بحر بے پایاں معلوم ہوتا ہے جس کا کچھ اندازہ ہی نہیں اور حضور کا ہر ایک خطبہ بلکہ ہر ایک تقریر و تحریر اپنے اندر ایک ایسی جدت اور شان رکھتی ہے کہ جس کی نظیر صفحہ ہستی پر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی ہے الفضل قادیان ۲ دسمبر شه O