سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 301

٣٠١ درس قرآن کریم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اوائل نالہ سے قرآن کریم کا درس دینا شروع فرمایا۔اس کے متعلق مدیر الحکم نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے متعلق اور خبروں کے ضمن میں لکھا :- آپ (تصا حبزادہ صاحب) خدمت دین اور اشاعت اسلام کا جو جوش اپنے سینے میں رکھتے ہیں وہ اب عملی رنگ اختیار کرتا جاتا ہے اور قوم کے لئے بہت ہی مسرت بخش اور امید افزا ہے۔اللہ تعالیٰ روح القدس سے آپ کی مدد کرے اور حضرت امیر المومنین کی تربیت اور 10% دعاؤں کے پھلوں سے اسلام کا بول بالا ہو " (الحكم قادیان اور فروری شده مش) وسط سلسلہ سے آپ دن میں دو دفعہ درس دینے لگے۔یعنی فجر اور ظہر کی نمازوں کے بعد ان درسوں میں اہالیان قادیان اور زاترین بڑے ذوق و شوق سے حاضر ہوتے اور علم معرفت کے اس شیریں چشمہ سے جی بھر کر اپنی پیاس بجھاتے۔افسوس کہ آپ کے درس قرآن کریم کا کوئی ریکارڈ محفوظ نہیں، اس لئے ہم اس کا کوئی نمونہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے سے بصد معذرت قاصر ہیں۔البتہ سامعین اس درس سے جس حد تک استفادہ کرتے اور محفوظ ہوتے تھے، اس کا کسی قدر تصور حسب ذیل اقتباس کو پڑھ کر قائم کیا جا سکتا ہے جو مخدوم محمد ایوب صاحب بی۔اے علیگ نئی دہلی کی ایک مطبوعہ یاد داشت سے لیا گیا ہے :- " میں نشانہ میں سکول سے موسم گرما کی تعطیلات میں قادیان گیا۔اور حضرت خلیفہ اول ہے جو میرے والد صاحب مرحوم و مغفور کے ساتھ خاص طور پر اظہار محبت فرمایا کرتے تھے، کے زیر سایہ رہا کرتا تھا اور حضرت صاحب کے درس قرآن شریف میں شامل ہوا کرتا تھا۔انہی ایام میں معلوم ہوا کہ حضرت میاں صاحب (حضرت خلیفة المسیح الثانی)