سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 292

۲۹۲ لتے پوری تسلی نہیں ہوتی۔میں ایک امتحان بیرسٹری کا باقی ہے وہ دے کر جب پانچ ماہ کے بعد واپس ہند آؤں گا تو آپ سے ملوں گا اور قادیان آوں گا کہ اس مسئلہ کی تصدیق کروں۔دوسرے ہند ونے کہ وہ بھی بیرسٹری کے سب امتحان پاس کر چکا ہے صرف ایک ٹرم TERM باقی ہے، کہا کہ آج تک میں نے اس رنگ میں کبھی مذہب پیش ہوتے نہیں دیکھا اور آج تک بغیر دلیل کے ہی ہمیں مذہب منوایا جاتا تھا۔یہ نیاطریق دیکھا ہے کہ آپ دلائل دیتے ہیں۔مگر وہ ایسا گستاخ تھا کہ بار بار یہ کہتا تھا کہ اگر خدا تعالیٰ میں کوئی طاقت ہے تو وہ اسے ہلاک کر دے۔نعوذ بالله من ذلک۔ایک اور طالب علم نے میرا پتہ لکھ لیا کہ ولایت سے میں مذاہب کے متعلق آپ سے خط و کتابت کروں گا۔میں نے سب سے وعدہ لیا ہے کہ ولایت میں خواجہ صاحب سے ملاقات کریں۔بعض نے بعض کتابیں بغرض مطالعہ بھی مانگی ہیں۔فالحمد لله على ذلك - اس فائدہ کے علاوہ مجھے سب سے عظیم الشان فائدہ یہ ہوا ہے کہ ان لوگوں کی حالت دیکھ کر اسلام کی موجودہ حالت کا نقشہ کھینچ گیا۔ایسا خطرناک دھر یہ میں نے کبھی نہ دیکھا ہے جیسا ان لوگوں کو دیکھا۔سخت دلیر اور منہ پھٹ میں دیکھتا ہوں اسلام کی حالت کا جو پہلے درد تھا اس سے لا محالہ بہت زیادہ اب میں پاتا ہوں۔دُعا کی بہت ضرورت ہے اور سخت ہی محتاج ہوں۔اس وقت بھی سر درد شروع ہے اور جب طبیعت بہت خراب ہوتی ہے تو دل گھبرا جاتا ہے۔خاکسار مرزا محمود احمد از پورٹ سعید جدہ سے ایک خط کا کھا حج کے روز طبیعت ایسی صاف ہو گتی کہ خدا کے فضل سے حج نہایت محمد گی اور خیریت کے ساتھ ختم ہوا۔بہت سے ایسے مقامات جہاں دُعا کی قبولیت خاص طور پر بتائی جاتی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل ایسے دیکھے کہ حیران ہوں۔عرفات میں قریباً چار گھنٹے سے بھی زیادہ دُعا کا موقعہ ملا اور آثار رحمت الہی ایسے نظر آتے