سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page iii of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page iii

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمة عرض حال حضرت فضل عمر مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی سوانح کی تصنیف و ترتیب کا کام فضل عمر فاؤنڈیشن۔ربوہ کے فیصلہ کے مطابق قبل ازیں استاذی المکرم ملک سیف الرحمن صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ۔ربوہ کے سپرد تھا۔آپ نے بڑی محنت اور کاوش کے ساتھ کئی سال تک اس بارہ میں متفرق مواد کو یکجا کیا اور ابتدائی چند ابواب کی تصنیف بھی مکمل کر لی لیکن بعد ازاں بعض مصالح کے پیش نظر یہ ذمہ داری خاکسار راقم الحروف کے کندھوں پر ڈال دی گئی۔خاکسار کے لئے از سر نو اس کام کا آغاز کرنا ایک مشکل امر تھا اور جو طویل مواد مگرم محترم ملک صاحب نے بڑی محنت سے یکجا کیا تھا اس کے بغور مطالعہ کے لئے ہی بہت وقت درکار تھا۔افسوس که اینجا دیگر مصروفیات اور مشاغل کے باعث نہیں اس اہم کام کے لئے خاطر خواہ وقت نہ دے سکا۔نتیجہ توقع سے زیادہ تاخیر ہوتی چلی گئی اور اب کئی سال کے انتظار کے بعد حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کی طویل سوانح حیات کی پہلی جلد ہدیہ قارئین کرنے کے قابل ہو سکا ہوں۔جو قارئین مختلف قسم کی تصانیف کا تجربہ رکھتے ہیں وہ مجھ سے غالباً اس امر میں اتفاق فرمائیں گے کہ تصانیف کی مختلف انواع میں سب سے مشکل اور وقت طلب نوع کسی سوانح حیات کی تصنیف ہے بعض ایسی شخصیات کی سوانح حیات کی تیاری میں بھی جو اپنی ہمعصر اور ہم قوم شخصیات میں کوئی غیر معمولی عظمت کا مقام نہ رکھتی تھیں، اُن کے سوانح نگار کو سالہا سال تک محنت اور کاوش کا سامنا کرنا پڑا۔چنانچہ لارڈ فشر کے سوانح نگار ایڈمرل میکن نے ہمہ وقت کام کرنے کے باوجود اس کام پر دس سال کا طویل عرصہ صرف کیا۔یہ مثال محض اس لئے پیش کی جارہی ہے کہ ایک سوانح نگار کی مشکلات کا کچھ اندازہ ہو سکے۔حضرت فضل عمر مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ کی سوانح حیات کتنی پہلوؤں سے ایک عام دنیاوی رہنما یا جرنیل یا اہل قلم کی سوانح سے مختلف اور ممتاز حیثیت رکھتی ہے اور گو اس وقت ہمارا یہ دعوی بعضی قارئین کو عجیب معلوم ہو لیکن ہر آنے والا سال ہمارے اس دعوئی کی صداقت پر نئی