سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 263

نہیں لگتی۔اندر ہر طرح کے پھل رکھے تھے مگر میں نے اُن کے لئے کسی رغبت کا اظہار نہ کیا اور کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد کہا آؤ یا ہر سیر کے لئے چلیں۔وہ میرے ساتھ باہر نکلا۔لیکن اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔میں نے اس کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا۔میرے ہاں کوئی اولاد نہیں۔روپیہ پیسہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہے۔خرچ بھی خوب کرتا ہوں۔لوگ میرے پاس بن بلائے بھی کھانے کیلئے آتے ہیں لیکن تم میری ٹیکیش کے باوجود ان سے بے نیاز ہو۔میں نے تم جیسا عجیب آدمی نہیں دیکھا۔میرے لئے دُعا کرو۔شیخ صاحب کہتے ہیں کہ اس پر میں نے اُسے جواب دیا میری تو کوئی حیثیت ہی نہیں اگر دیکھنا ہے تو میرے مرشد زادہ مرزا محمود احمد کو دیکھو۔اُن کے حُسن سیرت کا کوئی جواب ہی نہیں۔وہ کہنے لگا اُن سے ملنے کی کوئی صورت؟ کیا وہ یہاں آنے کی میری دعوت قبول کر لیں گے ہے میں نے کہا اُن سے ملنے کی صُورت خدا سے چاہو۔بہر حال کچھ دنوں کے بعد میں ڈلہوزی سے قادیان آیا تو مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے پاس یکمہ کھڑا دیکھا۔پوچھا یہ کس کے لئے ہے۔معلوم ہوا میاں محمود احمد صاحب ڈلہوزی جارہے ہیں۔میری آپ سے بے تکلفی تھی۔روانگی کے لئے جب باہر آئے تو میں نے مصافحہ کیا اور ساتھ ہی عرض کیا وہاں آپ کا ایک عاشق بیٹھا ہے۔آپ میری بات پر مسکرائے اور کسی قسم کی تفصیل معلوم کئے بغیر یکہ پر سوار ہو گئے۔اس دن غالباً اتوار کا دن تھا میں نے کسی سے پوسٹ کارڈ کیا اور کو توال عبد الغفار خاں کو لکھ دیا کہ تمہیں جن کی طلب تھی وہ اس گاڑی سے ڈلوزی آرہے ہیں۔اُن سے ملنے کی کوشش کرو۔عبدالغفار کا خیال تھا کہ جیسے اور پیر ہوتے ہیں یہ بھی فقیرانہ لباس ایلی تہہ والے کوئی سائیں جی ہوں گے جن کے آگے آگے کسی مرید نے جھنڈا اٹھارکھا ہوگا۔غرض اپنے تصور کے مطابق اُس نے اپنے آدمیوں کو اس قسم کی علامات بتا کر اڈے پر بھیجا کہ اس ہنیت کذائی کے بزرگ جب یہاں پہنچیں تو ان سے درخواست کی جائے کہ وہ میرے ہاں قیام فرمائیں۔ان لوگوں نے واپس آکر بتایا کہ اس قسم کے کوئی پیر آج ڈلہوزی نہیں آئے۔اس پہ وہ خود ایک احمدی دوست کے ہاں گیا اور پوچھا آج تمہارے پیرزادہ نے آنا تھا، کیا وہ آگئے ہیں۔اس دوست نے بتایا کہ ہاں وہ تشریف لے آتے ہیں۔اور اِس وقت اللہ تعالیٰ کے گھر یعنی مسجد میں نماز پڑھنے گئے ہیں۔چنانچہ وہ وہاں پہنچا۔آپ