سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 258
۲۵۸ وہ محبت فضول جائے گی۔طالب حق پادری صاحب! آپ نے بہت ہی معقول بات فرمائی ہے لیکن میں اس وقت تثلیث کو سمجھنا چاہتا ہوں نہ کہ تثلیث کی ضرورت کو۔میرا سوال تو یہ تھا کہ یہ دنیا کس طرح پیدا ہوئی اور کس نے کی۔پادری صاحب کلمے سے پیدا ہوئی۔خدا نے کی۔طالب حق کلمہ دنیا بن گیا اور یہ دنیا اسی کا حصہ ہے یا خدا نے حکم دیا اور وہ ہو گئی۔پادری صاحب۔(مسکرا کر) اوہو ! ہمارا یہ خیال نہیں ہے کہ دنیا نیست سے پیدا ہوئی۔یہ آریوں کا خیال ہے۔مجھے سے ایک دفعہ ایک آریہ ملا تھا اور اس نے مجھے سے پوچھا تھا کہ دنیا کس طرح پیدا ہوئی۔نیست سے بہت کس طرح ہو سکتا ہے۔میں نے اُسے جواب دیا کہ ہمارا ہرگز یہ مذہب نہیں کہ نیست سے بہت نبود خُدا نے حکم کیا ہو جا! وہ ہوگئی ہم نہیں مانتے کہ اس نے نیست کو کہا کہ تو کچھ بن جا۔طالب حق اوہو! آپ نے بہت اچھا جواب دیا۔اور بہت لطیف بات کہی لیکن میری کہ عرض یہ تھی کہ کلمہ سے دنیا پیدا ہوئی یا خدا کے امر پر دنیا موجود ہو گئی۔پاور کی صاحب۔ہاں کلمہ میسج ہے۔انجیل میں لکھا ہے کہ ابتدا میں کلام تھا۔اور کلام خدا کے ساتھ تھا۔اور کلام خدا تھا۔میں ابتدا میں خدا کے ساتھ تھا۔سب چیزیں اس سے موجود ہوئیں اور کوئی چیز موجود نہ تھی جو بغیر اس کے ہوئی۔زندگی اس میں تھی اور وہ زندگی انسان کا نور تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ ابتدا میں خدا کے ساتھ میں تھا اور مسیح سے دُنیا پیدا ہوئی۔آپ کے مذہب اسلام میں بھی مسیح کو کلمہ کہا گیا ہے۔کیا میں آپ کو اس کی نسبت کچھ سناؤں ؟ طالب حق پادری صاحب! میں نے آپ کے ابتدا ہی میں عرض کر دیا تھا کہ میں ایک ایسے انسان کی حیثیت میں آپ کے پاس آیا ہوں جس کی نظر میں تمام مذاہب برابر ہیں اور گو میں مسلمان ہوں لیکن اس وقت میں ایسے پیرایہ میں گفتگو کروں گا گویا گل مذاہب ابھی میرے زیر تحقیق ہیں۔اس لئے