سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 248

نواتے محمود ر محمود خدا حال پریشاں کردیں اور اس پر دے میں نہین کوپیشیاں کر دیں خنجر ناز یہ ہم جان کو قربان کر دیں اور لوگوں کے لئے راستہ آسان کر دیں کھینچ کر پردہ سُرخ یار کو عریاں کر دیں وہ ہمیں کرتے ہیں ہم اُن کو پیشیاں کر دیں نغمه محمود مجھ سا نہ اس جہاں میں کوئی دلفگار ہو جس کا نہ یار ہو نہ کوئی غمگسار ہو کتنی ہی پل صراط کی گوتیز دھار ہو یا رب میرا وہاں بھی قدیم استوار ہو تقویٰ کی جڑ یہی ہے کہ خالق سے پیار ہو گو ہاتھ کام میں ہوں مگر دل میں یار ہو " نواتے محمود ہاتے وہ دل کہ جسے طرز وفا یاد نہیں وائے وہ رُوح جسے قولِ مبلی یاد نہیں بے حسابی نے گناہوں کی مجھے پاک کیا میں سراپا ہوں خطا کوئی خط یاد نہیں درد دل سوز جگر اشک رواں تھے میرے دوست یار سے مل کے کوئی بھی تو رہا یاد نہیں ایک دن تھا کہ محبت کے تھے مجھ سے اقرار مجھ کو تو یاد ہیں سب آپ کو کیا یاد نہیں ہم وہ ہیں پیار کا بدلہ جنہیں ملتا ہے پیار بھولے میں روز جزا اور جزا یاد نہیں" سے یادِح وہ نکات معرفت بتلائے کون جارم وصل دار با پلوائے کون دلز ڈھونڈتی ہے جلوۂ جاناں کو آنکھ چاند سا چہرہ ہمیں دکھلائے کون له اخبار بدس قادیان ۲۹ اپریل شده ست که بدر ۳ ۱ متی شده صد سے بدر - ۲ رمتی شاه