سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 246
۲۴۶ نقش پا پر جو محمد کے پہلے گا ایک دن پیروی سے اس کی محبوب خدا ہو جائے گا کی ہیں در مالک یہ بیٹھے ہم لگانے مملکی ہاں کبھی تو نالہ اپنا بھی کر سا ہو جائے گا عشق مولا دل میں جب مستور ہو گا موجزن یاد کر اس دن کو تو پھر کیا سے کیا ہو جائے گا“ ے مناجات بدرگاه ایزدی اے میرے مولی مرے مالک مری جاب کی سیر مبتلا ئے رنج وغم ہوں جلد سے میری خبر دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوتے اب کسی پر تیرے بن پڑتی نہیں میری نظر ہر مولاتو جبکہ ہر شے ملکہ ہے تیری میرے مولا تو پھر جس سے تو جاتا رہا بتا کہ وہ جانے کدھر بے کسی میں رہزن رنج و مصیبت آپڑا سب متابع صبر و طاقت ہو گئی زیر و زیر یا الہی پر جم کر اپنا کہ میں بیمار ہوں دل سے تنگ آیا ہوں اپنی جان سے بیزار ہوں تحرم خاکی ہوں نہیں رکھتا کوئی پرواہ میری دشمنوں پر بھی گراں ہوں دوستوں پر بار ہوں کیا کروں جا کر حرم میں مجھ کو ہے تیری تلاش دار کا طالب نہیں ہوں، طالب دیدار ہوں صبر و تمکیں تو الگ دل تک نہیں باقی رہا راہ اُلفت میں کٹنا ایسا کہ اب نادار ہوں "۔۔۔تو خوب تھا وہ خواب ہی میں گر نظر آتے تو خوب تھا مرتے ہوئے کو آگے چلاتے تو خوب تھا دلبر سے رابطہ جو بڑھاتے تو خوب تھا یوں عمر رائیگاں نہ گنواتے تو خوب تھا اک غمزدہ کو چہرہ دکھاتے تو خوب تھا روتے ہوئے کو آئے ہنساتے تو خوب تھا محمود دل خدا سے لگاتے تو خوب تھا شیطاں سے اپنا پیچھا چھڑاتے تو خوب تھا دنیا ئے دُوں کو آگ لگاتے تو خوب تھا کوچہ میں اوس کے دھونی رماتے تو خوب تھا " کے اخبار بدر قادیان ۲۵ جون شنهای نمبر ۲۵ صدا که بدر هر جولاتی شده یی که مدرسه ار جنوری اشاره شده صن جاده