سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 15
۱۵ ہندوستان سے اسلام کو مٹانے کے ہند و منصوبے مشری سمر تھے رامداس سوامی برہمن نے بقول لالہ لاجپت رائے " سیوا جی کو بار بار اسلام کے خلاف جنگ کرنے کا اپدیش کیا " ہے اور اسی برہمن دیوتا کے اندیشوں کا نتیجہ تھا کہ سیوا جی اسلام اور اہلِ اسلام یہ کی دشمنی میں انتہائی ترقی کر گیا، جس کا پتہ خود اُس کے ایک خط سے مل جاتا ہے جو اس نے راجہ جے سنگھ کو لکھا تھا۔تحریر کیا کہ :- " میری تلوار مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہے۔افسوس صد ہزار افسوس !! کہ یہ تلوار مجھے ایک اور مہم کے لئے میان سے نکالنی پڑی۔اسے مسلمانوں کے سروں پر بجلی بن کر گرنا چاہیئے تھا جن کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ جنہیں انصاف کرنا آتا ہے۔۔۔میری بادلوں کی طرح گرجنے والی فوجیں مسلمانوں پر تلواروں کا وہ خونی مینہ برسائیں گی کہ دکن کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک سارے مسلمان اس سیلاب خون میں بہہ جائیں گے اور ایک مسلمان کا نشان بھی باقی نہ رہے گا۔" اس خط کو نقل کرنے کے بعد مسٹر اے۔کے۔سوریہ، بی۔اے ، ایل۔اہل - بی وکیل خود بھی وہ رقمطرانہ ہیں کہ : - " سیلوا جی کے یہ الفاظ اسے اپنے اصل رنگ میں ظاہر کر رہے ہیں۔اسلام کو مٹاکر اس ملک کا عام مذہب ہندو دھرم کو بنانا چاہتا تھا اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہی تھا کہ مسلمانوں کو حوالہ شمشیر و آتش کر کے ہندوستان سے ان کا نام و نشان مٹا دے “ سے مسلمانوں کے خلاف سیلوا جی نے جس خطرناک اور انتہائی غضب ناک تحریک کا آغاز کیا تھا، وہ مسلمانوں کو بحیثیت قوم مغلوب و مقہور کرنے سے تعلق رکھتی تھی۔بعد کے زمانوں میں اگر چہ اس کی ے منقول از اخبار الجمیعتہ دہلی ، جون ۱۹۲۷ اے سیوا جی اردو ص ۲۴۴