سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 211

Fin نہ تھا جن سے میں اس دُکھ کا اظہار کر سکوں کیونکہ میری طبیعت بچین سے ہی اپنے دکھ لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے دُکھتی ہے۔میرے دل پر وہ اتوان خنجر اور تلوار کی ضرب سے بڑھ کر پڑتے تھے اور میرے جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے تھے مگر خدا کے سوا کسی سے اپنے دُکھ کا اظہار نہ کرتا تھا۔اور اگر کرتا تو لوگ مجھے کیا فائدہ پہنچا سکتے تھے میں نے ان لوگوں کے بغض سے جنہوں نے یہ باتیں میرے حق میں آمین ہمیشہ اپنے آپ کو بچائے رکھا اور اپنے دل کو میلا نہ ہونے دیا۔لیکن لہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی " میں سمجھتا تھا کہ چند دن کا فتنہ ھے جو خود بخود دُور ہو جائے گا مگر اس فتنہ نے اپنی لمبائی میں شب ہجر کو بھی بات کر دیا اور گھٹنے کی بجائے اور بڑھا۔میں نے کبھی معلوم نہیں کیا کہ میرا کیا قصور تھا۔سوائے اس کے کہ میں مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا تھا کیونکہ اور بہت سے لوگ موجود ہیں جن پر یہ الزام نہیں لگائے گئے اور لاکھوں احمدیوں کے سر پر یہ بوجہ نہیں رکھا گیا۔مگر یہ تصور میرا نہیں۔اس کی نسبت خدا سے یہ سوال کرو۔اگر یہ کوئی قصور تھا تو اس کا فاعل خدا ھے، نہ میں تین خود مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں پیدا نہیں ہوا۔مجھے میرے مولا نے جہان بھیج دیا میں آگیا۔بین خدا کے لئے مجھے اس فعل پر دُکھ نہ دو۔اس واقعہ کی بنا پر مجھے مت ستاؤ۔جو میرے اختیار سے باہر ھے جس میں میرا کوئی دخل نہیں۔غرض ان مشکلات میں اپنے مولا کے سوا میں نے کسی پر توکل نہیں کیا اور اپنے دل کے دُکھوں پر اس کے سوا کسی کو آگاہ نہیں کیا۔اور تو میرا دل ایک پھوڑے کھے طرح بھرا ہوا تھا۔مگر سوارت کبھی کبھی اپنی نظموں میں بے اختیار ہو کر اشارہ اپنے دُکھ کے اظہار کے کبھی اپنے دکھ کا اظہار نہیں کیا۔مجھے ہمیشہ تعجب آتا رہا ہے کہ لوگ اس قدر بد ظنیوں سے کیوں