سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 196

194 وہی ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور جس میں خلیفہ کے ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔حضرت خلیفہ اس نے اپنی تقریر یں یہ بھی فرمایا کہ میں ان لوگوں کے طریق کو بھی پسند نہیں کرتا جنہوں نے خلافت کے قیام کی تائید میں جلسہ کیا ہے کیے اور فرمایا جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا تو اُن کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ الگ جلسہ کرتے ہم نے اُن کو اس کام پر مقرر نہیں کیا تھا اور پھر جبکہ خُدا نے مجھے یہ طاقت دی ہے کہ میں اس فتنہ کو مٹا سکوں تو اُنہوں نے یہ کام خود بخود کیوں کیا یہ سکے حضرت خلیفہ المسح الاول مرضی اللہ عنہ کی یہ تقریر اتنی پرجوش اور موید من اللہ تھی کہ اکثر دل موم کی طرح کھل گئے اور سامعین پر خوب واضح ہوگیا کہ خلافت کی کیا عظمت ہے اور خلیفہ کا مقام کیا ہے مجلس پر رقت کا ایک عجیب سماں طاری تھا حتی کہ درد و کرب کی شدت سے مغلوب ہو کر بعض احب تو زخمی پرندوں کی طرح زمین پر گر کر لوٹنے اور تڑپنے لگے۔ہ تقریر کے بعد آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور ایک دو اور احمدیوں سے فرمایا کہ اس فتنے کے بانی ہونے کی بنا پر آپ لوگ دوبارہ بیعت کریں۔اسی طرح قادیان میں حضرت صاحب کے منشا کے خلاف جلسہ کرنے کی وجہ سے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو بھی ارشاد ہوا کہ وہ تجدید بیعت کریں۔چنانچہ یہ سب دوست دست خلافت پر تجدید بیعت کر کے گویا نئے سرے سے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے بھی یہ سمجھ کر کہ یہ عام بیعت ہے اپنا ہاتھ بیعت کے لئے بڑھایا مگر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ کو پرے کر دیا اور فرمایا : - یہ بات تمہارے متعلق نہیں تھے خواجہ کمال الدین صاحب نے اس بیعت کے وقت صاف لفظوں میں یہ اقرار کیا کہ میں آپ کا حکم بھی مانوں گا اور آنے والے خلیفوں کے حکم بھی مانوں گا یہ مجھے سے یہ اشارہ اس جلسہ کی طرف ہے جو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے خلافت کی تائید میں اپنے گھر میں بعض دوستوں کو مدعو کر کے کیا تھا اور اس میں خلافت سے وفاداری کے عہد وپیمان کئے گئے تھے۔اسے خلافت احمدیہ کے مخالفین کی تحریک م19 ست اندرونی اختلافاتت سلسلہ احمدیہ کے اسباب مولفہ خواجہ کمال الدین صاحب ، حت