سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 9

دوسری طرف ایک نجات دهنده مسیح و مہدی کی آمد کی بشارت دی گئی تھی۔مذکورہ بالا پیش گوئیوں کے نتیجہ میں مسلمان عوام اپنے تنزیل اور ادبار کے ایام میں ایک ایسے در قبال کے خروج کے منتظر تھے جس نے ایک دیو ہیکل یک شیمی انسان کی صورت میں ایک طویل و عریض گدھے پر سوار ہو کر دنیا میں خروج کرنا تھا اور ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا تھا۔اس قبال کی زد سے دیگر اقوام کی طرح مسلمانوں نے بھی بری طرح متاثر ہونا تھا یہاں تک کہ ایک معمولی تعداد کے سوا اکثر و بیشتر مسلمانوں نے دجال کے غلبہ سے کلیہ مغلوب ہو جانا تھا لیکن عین اس وقت جب کہ مسلمان صفحہ ہستی سے مٹتے ہوئے نظر آتے آسمان سے مسلمانوں کے نجات دہندہ مسیح ناصری نے نازل ہو کر دنبال کو اپنی تلوار سے قتل کر دینا تھا اور یوں بظاہر سر پر منڈلاتی ہوئی ایک ذلت آمیز شکست کو ایک عظیم الشان فتح اور غلبہ میں بدل دیتا تھا۔اس تصور کے مطابق قتل دخیال سے فارغ ہو کر مسیح موعود کے فرائض میں مندرجہ ذیل امور شامل تھے :- اقبال دُنیا بھر کی صلیبوں کو خواہ وہ لکڑی کی ہوں یا لوہے کی اپیل تانبے کی ہوں یا سونے چاندی کی توڑ دیا یہاں تک کہ روئے زمین پر کوئی صلیب دیکھنے کو بھی نظر نہ آئے۔دوم ر تمام دنیا کے سوروں کا قتل عام اور سطح ارض کو اس خبیث جانور کے وجود سے پاک کرنا۔اسلام کے غلبہ نو کا یہ وہ تصور ہے جو حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت پاکیزہ اور لطیف پر استعارہ کلام کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں مسلمان علمار نے پیشگوئیوں کے ظاہری الفاظ کو دیکھ کر باندھا اور مسلمان عوام میں خوب خوب اس کا چرچا گیا۔مذہبی جنگوں کے جس دور کا ہم جائزہ لے رہے ہیں، اس دور میں یہ علما۔زیادہ ترایسی ہی خوابوں میں زندگی بسر کر رہے تھے اور حملہ آور قوموں کے خلاف نظریاتی جہاد کرنے کی بجائے اسی یک میشیمی و حال اور اس کے گدھے کی راہ دیکھ رہے تھے کہ ادھر وہ ظاہر ہو اور اُدھر سیسیح ناصری چوتھے آسمان کی بلندیوں سے اتر کرشاہین کی طرح اس پر جھپٹ پڑیں اور اس کام سے فارغ ہونے کے بعد دنیا بھر کے ممالک کا دورہ کر کے تمام صلیبیں توڑ ڈالیں یہاں تک کہ ایک بھی صلیب دنیا میں باقی نہ رہے۔پھر اس کے فوراً بعد سوروں کی طرف اپنی توجہ منعطف فرمائیں اور ان کی بیخ کنی کی عالمگیر مهم شروع کر دیں یہاں تک کہ یہ پلید جانور دنیا سے ناپید ہو جاتے اور چہار دانگ عالم میں مسلمانوں کا بول بالا ہو جائے۔