سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 142

۱۴۲ اس کے بعد حضرت صاحبزادی سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ کے ایک اور طبع شدہ مضمون سے ایک اقتباس پیش کرتے ہیں : سب بہن بھائیوں سے بڑھ کر اپنے پیار سے مجھے شرف بخشا۔۔۔بچپن سے۔انہوں نے مجھ سے خاص محبت کی ہمیشہ میرا خیال رکھا۔کسی آڑے وقتوں میں میری مدد کی۔بچپن میں تو غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔کبھی بڑے بھائی بہنوں کو گھرک جھڑک بھی لیتے ہوں گے مگر یہاں تو محض پیار اور ناز برداری ہی تھی۔ایک دفعہ بھی کبھی ٹیڑھی نظر سے نہ دیکھا۔میرا بھی یہ حال تھا کہ ہر بات پر شکایت یا ابا سے یا بڑے بھائی سے کرتی ہیں بہت چھوٹی تھی آپ باہر ڈھاب (جوہر) میں کشتی چلانے گئے ہوتے تھے۔دولڑ کے آتے اور کہا کہ میاں شب مانگ رہے ہیں۔ٹب دے دیا گیا اور میں نے اس وقت اپنی زندگی میں پہلا شعر کہا۔جب آئے تو خوشی سے لپٹ کر کہا، بڑے بھائی ! میں نے تمہارے لئے شعر بنایا ہے۔(اس وقت اس عمرم ہم شعر کہتے نہیں تھے بلکہ بناتے تھے) فرمایا بتاؤ تاؤ کیا ؟ میں نے بڑے فخر سے سنایا کہ نے شب لینا تھا ئب لے گئے۔کشتی چلانی تھی کشتی چلا گئے اس کو یاد کر کے اب تک ہنسا کرتے تھے۔ایک دفعہ میرے اُستاد پیر منظور محمد صاحب مرزا افضل بیگ صاحب سے گراموفون مانگ لاتے اور ریکارڈ چلانے لگے میں چھوٹی تھی اور وہ عجیب سے اشعار میرے لئے نئی چیز تھے۔میں نے کہا پیر جی ! میری کاپی پر یہ شعر لکھ دو۔انہوں نے بے خیالی میں لکھ دیا۔ایک مصرعہ مجھے یاد ہے 8 ستم سے باز آظالم قیامت آنیوالی ہے میں فوراً بھاگی اور آکر بڑے بھائی کو دیکھایا کہ یہ پیر جی سے لکھوا کر لائی ہوں۔میرے ہاتھ سے کاپی لی اور وہیں کھڑے کھڑے کاپی پر لکھ دیا اگر لایا کتے ایسی گھروں کو کاپیاں بیچتے 4 تو حضرت آپ کی اک روز شامت آنیوالی ہے