سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 136
اور بہروں کے نعرے لگائے جاتے اور بڑا غل غپاڑہ کیا جاتا ، کوئی اچھلتا کوئی کودتا سب کے سب یکدم خدا کی حمد اور ستائش کے لئے سر نیاز زمین پر رگڑ رگڑ کر شکریہ کرنے لگے۔سب لوگ اس نظارہ سے متاثر ہوتے اور تعریف کرنے لگے۔اس جگہ پر میں ایک عجیب نکتہ بیان کئے بغیر نہیں رہ سکتا جو کہ اگر چہ احمد می قوم کی تعلیم کی گھٹی میں شامل ہے مگر موقع اور وقت کے لحاظ سے ایک نکتہ اس طبیعت کے واسطے بڑا ہی قابل تعریف ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جو اس وقت موقع میچ میں شریک تھے سجدہ شکر کے بعد اُٹھے اور فرمایا کہ ہم نے تو صرف یہ دعا کی کہ عليهم۔ان فرمان طرح ہے کہ غیر الْمَغْضُوبِ عَلَيْه هم - اُن کا فرمانا تھا کہ بجلی کی طرح میرے دل میں وہ سارا سماں بندھ گیا اور ساری حقیقت اس دعا کی میرے دل میں بھر گئی اور میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی نکستر ریس طبیعت اور انتقال ذہن پر عش عش کر گیا۔اور میں نے بھی اسی رنگ میں دعا کرنی شروع کردی۔۔۔۔کسی نے کسی ماہر فن جنگ سے پوچھا تھا کہ ہتھیاروں میں سے سب سے اچھا کون سا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ جو وقت پر کام آجائے غرض مناسب موقع اور مناسب حال میں ایک دُعا تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا اور انجام بخیر ہوا اور مقابل کے لوگ کوئی گول نہ کر سکے اور اس طرح سے خدا نے محض اپنے فضل سے تعلیم الاسلام ہائی سکول کو فتح عطا کی جو کہ لڑکوں کے لئے خصوصاً موجب از دیا د ایمان ہوئی اور قبولیت دعا کا ایک تازہ نمونہ اُن کو خدا نے اُن کے اپنے وجود میں عطا کر دیا یا سے۔۔له " الحكم ۲۴ مارچ شده