سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 134
مهم ۱۳ کو تو قبول کر لیتا ہے لیکن آزمائش کے دکھوں سے انسان کو اپنے فضل سے بچا لیتا ہے۔نہ جانے وہ کتنی مرتبہ اپنے صادق بندوں سے اس قسم کے پیار کے سلوک فرما چکا ہے اور آئندہ فرماتا رہے گا۔اور آج تک یه دلنواز رسم بندگی و بنده نوازی اُمت محمدیہ میں لاکھوں مرتبہ جلوہ دکھا چکی ہوگی۔جیسا کہ ذکر گزر چکا ہے، آپ کو کشتی رانی کا بھی شوق تھا اور تیراک بھی بہت اچھے تھے۔یہ مشقیں زیادہ تر قادیان کے چاروں طرف پھیلے ہوئے ان خندق نما جو ہڑوں میں ہوا کرتی تھیں ہو ڈھاب کے نام سے معروف تھے اور جن میں پانی تو سال بھر خشک نہ ہوتا تھا لیکن نہانے کے قابل صرف برسات کے دنوں میں ہوا کرتے۔غرضیکہ آپ اُن سب کھیلوں میں حصہ لیتے رہے جو قادیان میں رائج تھیں۔آپ کے بچپن کے ایک ساتھی مرزا احمد بیگ صاحب بیان کرتے ہیں : بڑے ہو کر حضور فٹ بال بھی شوق سے کھیلتے تھے۔اور میرود بہ خاص شوق سے کھیلتے تھے مجھے بھی حضور کے ساتھ میر وڈیہ اور فٹ بال کھیلنے کا اکثر اتفاق ہوا ہے۔ویسے حضور ابتداز جسمانی طور پر کچھ کمزور تھے۔اس کے متعلق روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں بھی حضور کی صحت کی اس حالت کا ذکر آیا تھا اور غالباً حضرت خلیفہ المسیح الاول نے کا ڈلیور آئیل cod-liver oil تجویز کیا تھا۔حضور کچھ عرصہ پہلوانی یعنی کشتی کا کرتب بھی سیکھتے رہے ہیں یہ کر تب آپ ایک نوجوان جس کا نام محمد حسین تھا لیکن بچے اس کو بابا فضل حسین کر کے پکارتے تھے سے سیکھا کرتے۔فضل حسین صاحب اس لڑکے کے دادا تھے۔۔۔ایک چھوٹی سی کشتی بھی علم سے منگوائی تھی۔یہ طغیانی کے دنوں میں حضور ڈھاب میں چلایا کرتے تھے۔خلافت سے پہلے حضور حضرت استاذی المکرم مولوی شیر علی صاحب کے ساتھ ضیاء الاسلام پریس کے عقب میں بیڈ منٹن کھیلا کرتے تھے ایک دفعہ میں بھی اس کھیل میں شامل ہوا تھا پہلے اس سلسلہ میں مدیر الحکم کا بیان بھی قابل ذکر ہے۔کے روایت مرزا احمد بیگ صاحب ساہیوال