سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 127

۱۴۷ ان میں سے بعض کھیلیں سخت سردی کے دنوں میں زیادہ موزوں البعض موسم بہار یا موسم خزاں میں، بعض برسات میں اور بعض سخت گرمی کے ایام میں کھیلی جاتی ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب ان میں سے کسی ایک کھیل کے ایسے شوقین نہیں ہوئے کہ اس میں غیر معمولی مہارت پیدا کرنے کے لئے اُسے مستقلاً اپنا لیا ہو۔طبیعت میں گیس کا مادہ بہت تھا اور نئی چیز دیکھنے پر اس کا ذاتی تجربہ حاصل کرنے کا شوق مچلنے لگتا۔چنانچہ ایسے دنوں میں جب کہ موسم اور طبیعت کو فٹ بال سے زیادہ مناسبت ہو، آپ فٹ بال کھیلا کرتے۔جب کبڈی کا دور دورہ ہوتا آپ کبڈی کے میدان میں نکل جاتے۔جب بچوں میں میرود بہ یا گلی ڈنڈا کی رو چلتی تو آپ میرود بہ یا گلی ڈنڈا کی ٹیموں میں دکھائی دینے لگتے۔جب برسات کی جھڑیاں قادیان کے گردا گرد پھیلے ہوئے جو ہڑوں کو لیالسب بھر دیتیں بلکہ پانی ان کے کناروں سے اُچھل کر میدانوں میں پھیل جاتا اور قادیان حد نظر تک پھیلے ہوئے پانی کے درمیان ایک جزیرہ دکھائی دینے لگتا تو تیرا کی اور کشتی رانی کا شوق ہر شوق پر غالب آجاتا۔پھر جب خزاں اور بہار کے معتدل دن رات شکار کا موسم ہے کہ آتے تو آپ کے دل میں بھی یہ شوق کر دیں لینے لگتا۔بچپن کے ابتدائی دور میں آپ غلیل لے کر بچوں کے جھرمٹ میں شکار کے لئے نکل کھڑے ہوتے بعد ازاں جب ہوائی بندوق میسر آئی تو ہوائی بندوق لے کر دوستوں کو ساتھ لئے ہوئے قادیان کے اردگرد کے دیہات میں شکار کے لئے نکل جاتے۔آپنے اب ہم ان دلچسپیوں پر ذرا تفصیلی نظر ڈال کر دیکھیں کہ کس حد تک یہ ہمیں آپنے کی شخصیت سے روشناس کرانے میں مدد دیتی ہیں۔شکار کا ذکر چل رہا تھا سو شکا ر ہی کے ایک واقعہ سے ہم اس مضمون کا آغاز کرتے ہیں جو آپ نے ایک موقع پر بیان فرمایا ہے :- مجھے اپنے بچپن کی ایک مثال یاد ہے۔اس وقت تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی تھی اور میں بڑا تعجب کرتا تھا اور بہت سوچتا تھا۔مگر کچھ مجھ نہیں آتی تھی۔آخر خدا کے فضل سے وہ بات حل ہو گئی اور میں سمجھ گیا کہ اس کے اندر کیا حقیقت تھی۔وہ واقعہ یہ ہے کہ مجھے بچپن میں ہوائی بندوق کے ساتھ چھوٹے چھوٹے پرندوں کے شکار کا بہت شوق تھا۔ایک دفعہ میں بندوق لے کر ایک گاؤں کی طرف گیا جس کا نام شاید نا تھ پور ہے۔ایک