سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 118

HA تقریر و تحریر آپ کی تعلیم کا ایک اہم پہلو تحریر و تقریر سے متعلق تھا۔اس شعبہ میں بھی حضرت خلیفہ ایسیح الاول رضی اللہ عنہ ہی آپ کے معلم اور مرتبی بنے اور آپ کی تربیت میں گہری دلچسپی پی لیکن آپ کے مضامین اور تقاریر کو جس سخت معیار سے جانچتے رہے وہ بعض اوقات آپ کی دل شکنی کا موجب بھی بن جاتا تھا حالانکہ اس سختی کی وجہ محض یہ تھی کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو آپ سے بہت ہی بلند تو قعات تھیں اور انہی تو قعات کی کسوٹی پر آپ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ عنہ کو پر کھتے تھے۔اس ضمن میں حضرت صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں :- " مجھے خوب یاد ہے۔میں نے سب سے پہلا مضمون جب تشحید الاذبان میں لکھا تو اس کی بڑی تعریف ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بھی اسے پسند فرمایا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی الله عنه الله نے خود کئی لوگوں کو دکھایا۔مگر مجھے فرمانے لگے کبھی تم نے سُنا ہے لوگ کہا کرتے ہیں۔اونٹ چانی تے ٹوڈا بتائی۔پھر فرمانے لگے، اس کا کیا مطلب ہے ؟ میں نے عرض کیا مجھے تو پتہ نہیں ٹوڈا کیا ہوتا ہے۔فرمانے کسی نے اونٹ والے سے پوچھا تھا۔اُونٹ بیچتے ہو ؟ اس کی کیا قیمت لو گے؟ اس نے کہا اُونٹ کے تو میں چالیس روپے لوں گا مگر اونٹ کے نیچے کے بیالیس۔اس نے کہا یہ کیوں ؟ بیچنے والا کہنے لگا اس لئے کہ یہ اونٹ بھی ہے اور اونٹ کا بچہ بھی ہے۔پھر فرمانے لگے ہم تمہارے باپ کے مضامین دیکھتے رہتے ہیں۔ابھی تک تمہارا یہ مضمون حضرت کے مقابل کا مضمون نہیں، ہمیں تو تب خوشی ہو کہ ان سے بھی اعلیٰ لکھو اے حضرت خلیفہ ایسے الاول رضی اللہ عنہ کی ایسی ہی بند تو قعات آپ کی تقاریر سے متعلق بھی تھیں اور نتیجہ اُن کو بھی ایسے ہی کڑے معیاروں پر پر کھا جاتا تھا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا له الفضل ۲۶ فروری ۱۹۳۷ حده