سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 104
۱۰۴ قرآن کو یاد رکھنا پاک اعتقاد رکھنا یا فکر معاد رکھنا۔پاس اپنے زاد رکھنا اکسیر ہے پیارے صدق وسدا درکھنا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانی ید :- ناظرہ قرآن پڑھنے کے بعد آپ کو باقاعدہ اسکول میں داخل ہو کر مروجہ دنیوی تعلیم پانے کا موقع ملا اور گھر پر بھی بعض اساتذہ سے اردو اور انگریزی کی امدادی تعلیم حاصل کی چنانچہ حضرت منظور محمد صاحب رضی اللہ عنہ کچھ عرصہ آپ کو اردو پڑھاتے رہے اور بعد ازاں کچھ عرصہ حضرت مولوی شیر علی صاحب مرضی اللہ عنہ نے آپ کو انگریزی پڑھائی لیکن یہ سب تعلیم کس ماحول میں اور کس اہتمام کے ساتھ ہوتی۔یہ ایک دلچسپ داستان ہے جو خود حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ہی کے الفاظ میں سننے سے تعلق کھتی ہے۔آپ فرماتے ہیں : "میری تعلیم کے سلسلہ میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کا ہے۔آپ چونکہ طبیب بھی تھے اور اس بات کو جانتے تھے کہ میری صحت اس قابل نہیں کہ میں کتاب کی طرف زیادہ دیر تک دیکھ سکوں اس لئے آپ کا طریق تھا کہ آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور فرماتے میاں میں پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جاؤ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں میری آنکھوں میں سخت نگرے پڑ گئے تھے اور متواتر تین چار سال تک میری آنکھیں دکھتی ہیں اور ایسی شدید تکلیف کروں کی وجہ سے پیدا ہو گئی کہ ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کی بینائی ضائع ہو جائے گی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میری صحت کے لئے خاص طور پر دعائیں کرنی شروع کر دیں اور ساتھ ہی آپ نے روزے رکھنے شروع کر دیئے مجھے اس وقت یاد نہیں کہ آپ نے کتنے روزے رکھے بہر حال تین یا سات روزے آپ نے رکھے جب آخری روزے کی آپ افطاری کرنے لگے اور روزہ کھولنے کے لئے منہ میں کوئی چیز ڈالی تو یکدم میں نے آنکھیں کھول دیں اور میں نے آواز دی کہ مجھے نظر آنے لگ گیاہے لیکن اس بیماری کی شدت اور اس کے متواتر حملوں کا --