سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 85
میں خاص قبول بخشا گیا ہے۔میں التزاماً چند دعائیں ہر روز مانگا کرتا ہوں" جو چند واقعات جستہ جستہ ہم تک پہنچے ہیں محض نمونہ ہیں اور اس انیس سالہ زندگی کے تمام دور پر حاوی نہیں جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کو اپنے جلیل القدر والد سے تربیت حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اس تربیت کی چند جھلکیاں جو پیش کی گتی ہیں انہیں دیکھ کر بے اختیار دل چاہتا ہے کہ کاش ایک سینما سکوپ کی طرح تربیت کے ان حسین نظاروں کی وہ تمام تصویریں متحرک ہو کر ہماری آنکھوں کے سامنے پھر جاتیں ! تاریخ کا یہ دور جس حد تک بھی محفوظ ہے، اسے دیکھ کر ایک قطعی نتیجہ یہ نکالا جا سکتا ہے کہ جس طرح مقناطیس اپنی قوت جاذبہ کو دوسرے لوہے کے ٹکڑے کی طرف منتقل کرتا ہے اسی طرح حضرت مرزا صاحب علیہ السلام اپنی شخصیت کے تمام حسن کو حضرت صاحبزادہ صاحب کی شخصیت میں منتقل فرماتے رہے۔بنی نوع انسان کی جو ہمدردی آپ کے دل میں تھی اس سے آپ اس بچے کے دل کو بھی بھرتے رہے۔خدا کی دیگر مخلوق کے لئے جس جذبہ رحم سے آپ کا سینہ بھر پور تھا وہی جذبہ رحم آپ اپنے اس بچے کے سینہ میں بھی موجزن دیکھنا چاہتے تھے۔باتیں چھوٹی چھوٹی اور انداز نصیحت نہایت سادا اور پیارا ہے۔لیکن اس کے نتیجہ میں ایک اثر قبول کرنے والا بچہ مخلوق خدا کے لئے ایک گداز دل کی نعمت پا جاتا ہے :- ایک بار آپ دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے۔حضرت صاحب جمعہ کی نماز کے لئے باہر جاتے ہوئے وہاں سے گزسے تو دیکھ کر فرمایا۔میاں ! گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں ملے حضرت صاحبزادہ صاحب کی سیرت کا یہ دور اپنے بزرگ والد کی سیرت سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور ایک کا بیان دوسرے کے بغیر ممکن نہیں۔اپنے صرف اپنے اخلاق ہی سے حضرت صاحبزادہ صاحب کی شخصیت کو معمور نہیں کیا بلکہ جن اقدار کو آپ اولیت دیتے تھے، اُن اقدار کو اولیت دیتا بھی اپنے اس پیارے بچے کو سکھایا اور اخلاق میں تبھی حفظ مراتب کے آداب سکھاتے : ایک دفعہ تعلیم الاسلام سکول کے طلبہ کو مضمون دیا گیا کہ علم اور دوست الا کا مقابلہ کرو۔صاحبزادہ صاحب نے اس مضمون کے متعلق بہت لے سیرت مسیح موعود " ص ۳۴۲